اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

بارہ مئی کو قتل وغارت کا حکم کس نے دیا تھا؟ ایم کیو ایم کے رہنما کامران فاروقی کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سانحہ بارہ مئی کیس میں متحدہ رکن اسمبلی کامران فاروقی نے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت سے معافی کی درخواست کردی ہے ۔تفصیلات کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت میں سانحہ بارہ مئی کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی کامران فاروق کے بیان حلفی کی کاپی عدالت میں پیش کی گئی، جس میں انہوں نے اپنے تمام جرائم کا

اعتراف کرتے ہوئے مزید سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔بیان حلفی کے مطابق بارہ مئی دوہزار سات کو کراچی بند کرنے کا حکم متحدہ قیادت نے دیا جبکہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد کو روکنے کے لئے نائن زیرو میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا۔کامران فاروقی کے مطابق منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اجلاس میں فاروق ستار، عمیر صدیقی اور ائیر پورٹ سے متصل علاقوں کے سیکٹر انچارجز نے شرکت کی،اس اجلاس میں اعلی قیادت کی جانب سے حکم ملا کہ ہرصورت بارہ مئی کو کراچی بند کرنا ہے اور اس مقصد کے لئے قتل و غارت بھی کرنا پڑے تو وہ بھی کیا جائے۔ کامران فاروقی نے اپنے بیان حلفی میں مزید سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کیلئے کارکنوں کو کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ دیا گیا۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن اسمبلی نے سانحہ طاہر پلازہ پر پردہ اٹھاتے ہوئے بیان حلفی میں بتایا ہے کہ نو اپریل سال دوہزار آٹھ کو قیادت کے حکم پر طاہر پلازہ میں وکلا کے دفاتر کو آگ لگائی ۔کامران فاروق کے بیان کے مطابق سیاسی مخالفین کو قتل کرکے رات کے اندھیرے میں لاشیں پھینک دیتے تھے، قتل کا حکم براہ راست حماد صدیقی کے ذریعے ملتا تھا ۔اپنے بیان حلفی میں رکن سندھ اسمبلی نے تمام جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت سے اپیل کی ہے کہ انہیں معاف کیا جائے ، واضح رہے کہ کامران فاروقی کے خلاف غیرقانونی اسلحہ اور دیگر مقدمات زیر التوا ہیں جبکہ کامران فاروق ضمانت پر رہا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…