بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کاغذی شیر لندن میں بلا بن کر بیٹھ گیا، کپتان ذات اور نام بدلتے رہتے ہیں ،آصف زرداری نے خیبرپختونخوا میں ترقی کے دعوؤں کا پول کھول دیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زراری نے کہا ہے کہ کاغذی شیر لندن میں بلا بن کر بیٹھ گیا ۔ کپتان ذات اور نام بدلتے رہتے ہیں، سی پیک کا راستہ میں نے دکھایا بورڈ لگا کر باتیں کرنے والے اسے سمجھتے نہیں ۔ شوکت خانم پر پلنے والے اپنا ذریعہ معاش بھی نہیں بتا سکتے۔ان کا تنقید کے علاوہ ملک کے لئے کوئی پروگرام نہیں۔

آئندہ پاکستان کو ایگرو ایکسپورٹ کمپنی بنانا ہے لاہور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ نواز شریف نے تمام صنعتی بند کر دی ہیں وہ ملک کی معیشت کو بہتر کرنا نہیں چاہتے۔ وہ کاغذی شیر ہیں اور کاغذی شیر اب لندن میں بلّا بن کر بیٹھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے سی پیک میں بورڈ لگایا میں نے راستہ دکھایا تھا وہ سی پیک کی بات کرتے ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپتان نام اور ذات بدلتے رہتے ہیں ۔ کپتان ایک بار پھر معافی نامہ لے کر سامنے آ گیا ہے۔ عمران نیازی سے ذریعہ معاش پوچھیں تو وہ بتا نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی خواہش ’’می ٹو‘‘ کہتی ہیں کتنی غلیظ بات ہے خیبر پختونخوا میں ایک پل کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔ وہاں کے کالج ہمارے دور میں بنے تھے انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف بھاگنا جانتے ہیں ان کا تنقید کے علاوہ ملک کے لئے کوئی پروگرام نہیں ہے ان کا چور خاندان شوکت خانم پر جی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مشنری امپورٹ کرنے کی اجازت شہید محترمہ نے دی تھی پیپلزپارٹی ملک کو معاشی ڈیفالٹ نہیں ہونے دے گی۔ آئناہ پاکستان کو ایکسپورٹ کمپنی بنانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…