بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سابق ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر کے بھائی کے خلاف کرپشن الزامات کی تحقیقات شروع

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے طیارے فروخت کے بارے میں ائیر کموڈور ریٹائرڈ عمران اختر اور ایئرلائن کے سابق جرمن سی ای او برنڈ بلڈن برانڈ کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے۔کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر فرحت اللہ نے کہا کہ عمران اختر نے طیارہ بیچنے کی سمری تیار کی لیکن کمیٹی میں آکر کہا کہ طیارہ بیچنے کا معاملہ ان کے علم میں نہیں ہے۔ اس دوران سینیٹر سلیم مانڈی والا نے

کہاکہ ائیر پورٹ سے کس کی اجازت سے جہاز نے فلائی کیا۔ انہوں نے کہاکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ طیارہ فروخت کیا گیا لیکن رقم ابھی تک نہیں ملی کیا پی آئی اے اس وقت سو رہا تھا۔ کسی نے بھی اس پر لب کشائی تک نہیں کی آٹھ ماہ گذر چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ چیئرمین پی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے نے انکوائری کی اور ائیرکموڈور ( ر) عمران کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے شوکاز نوٹس دیاگیاہے لیکن وہ ریٹائرڈ ہو گئے ہیں ابھی تک انہوں نے شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہاکہ پی آئی اے نے 2014/15 میں طیارہ دس کروڑ میں فروخت کیا تھا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاکہ جہاز فروخت کرنے کی سمری عمران اختر دور کی تھی جب کہ وہ اس سے انکاری ہیں ۔ انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کو مس گائیڈ کیا اس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ با اثر ہے جبکہ اس کے ساتھ ائیر فورس کا ملازم تھا اگر وہ کسی فورس کا ملازم بھی ہو تو قانون کے مطابق کرپشن کرنے کے جرم میں اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر وزارت دفاع کہتی ہے کہ وہ جواب نہیں دیتا تو اس کے خلاف تحریک استحقاق لائی جا سکتی ہے، قائمہ کمیٹی نے عمران اختر اور برنڈ ہِلڈن برانڈ کے خلاف تحقیقات کے لیے فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی، جسے معاملے کی ذمہ داری عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…