اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

اسلامی فوجی اتحاد،پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے مگر ۔۔! ایران نے انتباہ کردیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے کہا ہے کہ ملا منصور کو ایرانی ویزہ جاری کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس سوال کا جواب دینے کے لئے کچھ تفصیلات میں جانا پڑے گا ۔ کسی شخص کے ایک ملک میں قیام کے لئے محض ویزہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا

بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ کہ آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ملا منصور کو پاسپورٹ کس نے دیا ۔ دنیا کا کوئی بھی سفارت خانہ کسی بھی شخص کو ویزہ جاری کرنے سے پہلے پاسپورٹ کے حامل شخص کو دیکھتا ہے کہ آیا پاسپورٹ اصلی ہے یا نہیں ۔ اگر پاسپورٹ اصلی ہو تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ معلومات غلط ہیں تاہم اگر آپ کوئی ٹیکنیکل چیز پوچھنا چاہتے ہیں تو وہ اس وقت میری رسائی میں نہیں ۔ جنرل راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر تعیناتی کے متعلق سوال کے جواب میں مہدی ہنر دوست نے کہا کہپاکستان کے اندرونی معاملات میں ہم دخل اندازی نہیں کرتے مگر اس فوجی اتحادپر ہمارا موقف واضح ہے پاکستان کے متعلقہ شعبوں اور حکام تک اپنا موقف پہنچا چکے ہیں ۔ آپ یہ دیکھیں کہ ریاض سمٹ کا نتیجہ کیا نکلا ۔انہوں نے کہا کہ شام میں سب ملکوں کے جنگ جو موجود ہیں ۔ دہشتگردی کے جسم کوکسی بھی ملک میں پنپنے کے لئے غربت اور جہالت جیسی وجوہات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور دہشتگردی کے اس جسم کا دل مالی معاونت ہے ۔ شام میں دہشتگردی کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…