بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

جرمن سفیر مارٹن کوبلر پیدل ہی پاکستان کے اہم شہر کے بازاروں میں پہنچ گئے پاکستان کے بارے میں ایسی بات کہہ دی کہ دشمنوں کو آگ لگ گئی!!

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی)جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے چترال کا دورہ کیا،سفیر نے بغیر کسی پروٹول کے چترال کے بازاراورگلی محلوں میں چہل قدمی کی جبکہ خریداری بھی کی ۔جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے چترال کا دورہ کیا،سفیر نے بغیر کسی پروٹول کے چترال بازاراورگلی محلوں میں چہل قدمی کی اورلوگوں سے گھل مل گئے ،جرمن سفیر نے چترال کے بازار سے فروٹ خریدار جبکہ چترالی ٹوپی اور چغہ بھی خریدا،مارٹن کوبلر نے

وادی کالاش کا دورہ اور کالاش برادری سے ملاقات بھی کی،مارٹن کوبلر نے چترال کی شاہی مسجد کے خطیب خلیق الزمان سے بھی ملاقات کی۔جرمن سفیر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان کیخلاف دہشتگرد ملک ہونے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں پاکستان ایک پر امن ملک اور یہاں کے باسی انتہائی مہمان نواز ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جرمن سفیر ٹرین کا سفر کرتے ہوئے گوجرانوالہ پہنچے تھے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایوان صعنت و تجارت کے عہدیداروں سے خطاب میں جرمن سفیر نے کہا تھا کہ ٹرین سفیر کرنے کا مقصد دنیا کے تمام کاروباری حضرات کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کاروباری سرگرمیوں سمیت ہر لحاظ سے محفوظ ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی اور پاکستان کے مابین پرانے اور مضبوط تجارتی تعلقات موجود ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے چیمبر اور سفارتخانے دونوں کلیدی کردار ادا کریں۔انہوں نے بتایا کہ میری پاکستان میں تعیناتی کو ابھی صرف پانچ ہفتے ہوئے ہیں اور اسلام آباد سے باہر یہ میرا پہلا دورہ ہے لہٰذا میں آپ سے سیکھنے کیلئے آیا ہوں۔ پاکستان میں نوجوانوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے جرمن حکومت آپ کی مدد کرنا چاہتی ہے۔پاکستان میں بالعموم سیکیورٹی خدشات کی بنا پر سفارت کار اور غیرملکی مہمان سخت سیکیورٹی میں بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر

کرنا پسند کرتے ہیں، لیکن جرمن سفیر کے اس طرح پاکستانی ٹرین میں سفر کرنے کو بہت سراہا جارہا ہے ،عام لوگوں کا کہنا ہے کہ جرمن سفیر کے اس اقدام سے پاکستان میں غیرمحفوظ ہونے کا بین الاقوامی تاثر زائل ہوسکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…