اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

مفتی عبد القوی نے عدالت کے گیٹ کے باہر ایمبولینس سے اترنے پر انکار کیا تو جج نے باہر آکر ایمبولینس میں ہی عدالت لگالی، فیصلہ بھی سنا دیا!!

datetime 24  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) قندیل بلوچ قتل کیس کے ملزم مفتی عبدالقوی نے بیماری کا عذر پیش کرکے ایمولینس سے اترنے سے انکار کردیا جس پر جج نے ایمبولینس میں آکر ہی سماعت کی اور ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔تفصیلات کے مطابق قندیل بلوچ قتل کیس کی

سماعت آج پھر ہوئی جس میں پولیس نے مفتی عبدالقوی کے بیمار ہونے کی میڈیکل رپورٹ پیش کی تاہم عدالت نے میڈیکل رپورٹ مسترد کردی اور ملزم کو فوری طور پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔تفتیشی افسر نے مفتی عبدالقوی کو پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کی جس پرعدالت نے انہیں محض ایک گھنٹے کا وقت دیا۔نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق عدالت کی جانب سے ایک گھنٹے کی مہلت دیے جانے کے بعد انہیں اسپتال سے فوری طور پر عدالت لایا گیا تاہم مفتی قوی نے بیماری اور نقاہت کے سبب ایمبولینس سے اترنے سے ہی انکار کردیا۔ان کے انکار پر بھی جج نے سماعت معطل نہیں کی اور کمرہ عدالت سے چل کر ایمبولینس پہنچے اور اس میں بیٹھ کر مفتی عبدالقوی سے بیان لیا۔جج نے بیان قلم بند کرانے کے بعد مفتی عبدالقوی کا مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا بعدازاں پولیس نے انہیں دوبارہ کارڈیالوجی اسپتال منتقل کردیا۔اسپتال ایم ایس کے مطابق انہیں شام تک اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد پولیس انہیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر اپنے ساتھ لے جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…