منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

احتساب عدالت کے باہر ہنگامہ آرائی کے معاملے کاڈراپ سین،حیرت انگیز فیصلہ ہوگیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے کمرہ عدالت میں جگہ کی کمی کی وجہ سے عدالت میں آنے والے افراد کی تعداد 50 مقرر کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے فہرست مانگ لی بدھ کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لکھے گئے خط کے جواب میں احتساب عدالت کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ کمرہ عدالت میں جگہ بہت کم ہے، 50 افراد کمرہ عدالت میں آسکتے ہیں، سکیورٹی امور کی وجہ سے

وکلاء، نیب حکام، ملزمان اور میڈیا نمائندگان کی لسٹ عدالت میں جمع کرائی جائے اور انہیں آنے کی اجازت دی جائے۔احتساب عدالت کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق نیب 9افراد کو ساتھ لے آئے، 15 افراد ملزمان کے ساتھ آ سکتے ہیں، ان افراد میں وکلا بھی شامل ہوں گے، 15میڈیا نمائندگان کمرہ عدالت آ سکیں گے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پہلے بھی وکلا کے ساتھ نا خوشگوار واقعہ پیش آ چکا ہے اس لئے وکلا کے نام دے دیں کہ یہ وکلا آئیں گے، خط کے مطابق وکلا تشدد واقعے کی انکوائری رپورٹ بھی جلد آ جائے گی۔ دوسری جانب وزیر مملکت طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری نے احتساب عدالت کے باہر ہنگامہ آرائی کے معاملے پر وکلا اور وفاقی پولیس کے درمیان صلح کرادی جس کے بعد پولیس کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لئے دائر درخواست بھی واپس لے لی گئی ہے اور پولیس کے تین افسروں کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس بھی رکوا دیئے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آفس میں وکلا اور پولیس کے اعلیٰ افسران اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر کے مطابق وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بطور ثالث کردار ادا کیا ہے جس کے بعد وکلاء اور پولیس کے مابین صلح ہو گئی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف قانونی کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…