ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

شاہ محمودقریشی کو بڑی شکست، وہ کام ہوگیا جس کا سوچابھی نہ ہوگا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کے لیے کوشاں تحریک انصاف اور متحدہ کے مذاکرات میں کوئی پیشرفت سامنے نہ آئی جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف نے چیئرمین نیب اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نئے سربراہ کی تعیناتی سے قبل اپوزیشن لیڈر تبدیل کرنے کی کوشش کی تاہم انہیں ناکامی کا سامنا رہا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین

نے شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرنے اور حمایت حاصل لینے کی ذمہ داری سونپی جس کے بعد تحریک انصاف کے وفد نے مختلف سیاسی جماعتوں کے مراکز کے دورے کیے۔شاہ محمود قریشی اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد پہنچے اور اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی سے متعلق مشاورت کی،26 جولائی کو دونوں جماعتوں نے مشترکہ امیدوار کے لیے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین کا انتخاب کیا۔عمران خان کی جانب سے شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے بعد تحریک انصاف بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہوگئی تھی، اس ضمن میں تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے عمران خان سے بنفس نفیس ملاقات کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ اسی دوران مسلم لیگ( ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے بھی شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی مخالفت کی۔ایم کیو ایم پاکستان نے تحریک انصاف کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر کی حمایت کا اعلان کرکے موقف اختیار کیا تھا کہ خورشید شاہ نے اسمبلی کے فلور پر کبھی کوئی مسئلہ جاندار طریقے سے نہیں اٹھایا، ہمیں جب بھی تحفظات پیش آئے انہوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔متحدہ اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کو سیاسی تاریخ کا انوکھا اقدام قرار دیا گیا اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے بھی عمران خان سے مطالبہ کیا کہ انہوں نے ماضی میں جو متحدہ مخالف بیانات دیے اس پر معافی مانگیں تاہم پی پی کو امید تھی کہ یہ مذاکرات زیادہ عرصہ نہیں چل سکیں گے۔

متحدہ سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے تحریک انصاف کے نامزد اپوزیشن لیڈر کی حمایت پر ایم کیو ایم میں اندرونی اختلافات پیدا ہوئے، متحدہ کے قومی اسمبلی میں دو درجن سے زائد اراکین موجود ہیں جن میں سے کچھ مسلسل غیر حاضر ہیں جبکہ 5 نے ووٹ دینے سے صاف انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے گنتی مکمل نہ ہوسکی۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے دوبارہ رابطہ نہ کرنے کا عذر پیش کر کے مزید پیشرفت سے معذرت کی جبکہ تحریک انصاف کو بھی ان مذاکرات کے بعد شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

کیونکہ کراچی کے کارکنان نے اس اتحاد کے خلاف آواز بلند کی اورکراچی میں اپنے مرکزانصاف ہاؤس کے باہر مقامی رہنماؤں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔کارکنان نے کہاکہ چند عناصر آئندہ انتخابات میں اپنی نشستیں حاصل کرنے کے لیے پارٹی قیادت کو غلط مشورے دے رہے ہیں، انہوں نے عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس اتحاد سے دستبرداری کا اعلان کریں۔واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی حمایت کے بعد خورشید شاہ کو قائد حزب اختلاف کا منصب دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…