ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

مفتی عبد القوی عدالت میں پیش ہو گئے عدالت نے ہتھکڑیاں منگوائیں تو مفتی قوی نے کیا کام کیا؟

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت، عدالت نے ملزم مفتی عبد القوی کی عبوری ضمانت میں مزید ایک روز کی توسیع کر کے کیس کی سماعت کو کل تک ملتوی کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ملتان میں قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت جسٹس

چودھری امیر خان نے کی، کیس کی سماعت کے موقع پر مفتی عبد القوی سمیت مرکزی ملزم وسیم اور حق نواز بھی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں پولیس نے مزید تفتیش اور چالان مکمل کرنے کے لیئے ملزم مفتی عبد القوی کی عبوری ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر مفتی عبد القوی کو گرفتار کرنے لیئے ہٹھکڑیاں بھی عدالت میں منگوائی گئی تاہم مفتی عبد القوی کا کہنا تھا کہ وہ تفتیش کے لیئے پولیس کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، ان کا قتل سے کوئی تعلق نہیں انہیں یقین ہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا، جس پر سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔واضح رہے گذشتہ برس جولائی میں معروف ماڈل قندیل بلوچ کو مبینہ طور پر ان کے بھائی وسیم نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا جبکہ اس مقدمے میں مقتولہ کا کزن حق نواز بھی مبینہ طور پر شامل تھا۔ یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔ قندیل بلوچ کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی اعانت جرم کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا، لیکن 15 ماہ گزرنے کے باوجود بھی پولیس کیس کا چالان مکمل نہیں کر سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…