ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

ایسا کیا ہوا تھا کہ عمران خان عامر لیاقت کو کال کرتے ہوئے دھاڑیں مار کر رو پڑے تھے، معروف اینکرکال پر ہونے والی گفتگو سامنے لے آئے

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ریحام خان اور عمران خان کی طلاق کے بعد ایک کالم لکھا جس پر ردعمل کے طور پر پی ٹی آئی کے چند مشتعل نوجوانوں نے نازیبا زبان استعمال کی جس پر عمران خان نے مجھے فون کیا

اور ہم دونوں بات کرتے ہوئے رو پڑے، عامر لیاقت کا نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے معروف اینکر عامر لیاقت حسین نے نجی ٹی وی پروگرام میں موبائل میسج پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریحام خان اور عمران خان کی طلاق کے موقع پر میں نے ایک کالم لکھا تھا جو مزاح پر مبنی تھا جس کا مقصد عمران خان کو تکلیف دینا ہر گز نہیں تھا ۔میرے اس کالم پر شدید ردعمل سامنے آیا اور تحریک انصاف کے چند مشتعل ورکروں نے میری والدہ محترمہ کے حوالے سے نازیبا کلمات کہے جس پر عمران خان نے مجھے معذرت کیلئے فون کیا اور ہماری فون پر ایک گھنٹہ تک بات ہوتی رہی اس دوران میں اور عمران خان بات کرتے ہوئے رو پڑے۔ عمران خان نے مجھے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ، میری والدہ نہیں ہیں اور میں والدہ کی کمی اور ان کے مرتبے کو سمجھتا ہوں۔ عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان ٹوٹے ہوئے تھے کیونکہ حال ہی میں ان کا گھر ٹوٹاتھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کال کے بعدمعاملہ ختم ہو گیا تھا۔انہوں نے اس حوالے سے مزید کیا کہا۔۔ویڈیو ملاحظہ کریں!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…