ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

چوتھی بڑی سیاست قوت منظر عام پرآگئی

datetime 15  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی بحالی کیلئے مذہبی جماعتوں نے آپس میں رابطے شروع کردیئے جبکہصاحبزادہ ابوالخیر زبیر کو 9 نومبر کو منصورہ اجلاس میں باضابطہ مدعو کیا جائے گا،نئی جماعتوں کی شمولیت کا فیصلہ ایم ایم اے کی سینئر قیادت کی منظوری سے مشروط کردیا گیا۔معتبرذرائع کے مطابق متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے سلسلے میں تمام جماعتوں اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا

گیا ہے اور اس حوالے سے صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کو 9 نومبر کو منصورہ اجلاس میں باضابطہ مدعو کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ایم ایم اے میں شامل جماعتوں میں مکمل اتفاق رائے موجوداعلی سطحی قیادت کے آپس میں رابطے ہوگئے اور ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اختلاف کی باتیں پھیلانے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا،اتحاد کی فعالیت کے لئے مولانا فضل الرحمان, سراج الحق اور ساجد نقوی مزید متحرک کردار ادا کرینگے،ذرائع نے مزید بتایا کہ ایم ایم اے کے پہلے اجلاس میں جے یوپی کی جانب سے پیر اعجاز ہاشمی اور انس نورانی نے شرکت کی،صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کا اپنا مقام آئندہ اجلاس میں شرکت کرینگے،جے یو آئی( س) اور( ف) میں بھی تنظیمی اختلاف لیکن دینی اتحاد پر موقف واضح ہے،ابتدائی اجلاس میں ایم ایم اے کو توسیع دیئے جانے پر غور کیاگیا۔آئندہ اجلاس میں چھ بڑی جماعتوں کے علاوہ سیاست میں متحرک دیگر مذہبی جماعتوں کی شمولیت پر غور ہوگا۔نئی جماعتوں کی شمولیت کا فیصلہ ایم ایم اے کی سینئر قیادت کی منظوری سے مشروط کردیا گیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…