منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’ عالم دین جو قادیانیوں کو مسلمان سمجھتا ہو؟ ‘‘

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میرنے وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ سے سوال کیا ہے کہ وہ کسی ایک عالم دین کا نام بتائیں جو قادیانیوں کو مسلمان سمجھتا ہو؟،صرف نمازیں پڑھنے سے یا آزانیں دینے سے قادیانی مسلمان نہیں بن جاتا ،عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان لائے بغیر کوئی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی، کافروں کی عبادت گاہ کو مسجد نہیں معبد کہتے ہیں، مسجد صرف

مسلمانوں کی عبادت گاہ کو کہا جاتا ہے،قادیانی منکر ختم نبوت کی بنیاد پر کافر ہیں، جس کی گواہی ہمارے دین اور آئین دونوں میں موجودہے ، رانا ثنا ء اللہ دینی معاملات پر لب کشائی سے پرہیز کریں ،پوری دنیا میں ایک بھی عالم دین ایسا نہیں ہے جو قادیانیوں کو مسلمان سمجھتا ہو ، ہم راناثنا اللہ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔اپنے ایک بیان میں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھامرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کوہمارے علما ء میاں نذیر حسین محدث دہلوی ؒ ،مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ ، مولانا ثنا اللہ امرتسری ؒ اور ہمارے بزرگ مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی ؒ نے بے نقاب کیا، اسے دلائل وبراہین کے ساتھ شکست دی۔ آج بھی اہل حدیث کا بچہ بچہ ختم نبوت کی چوکھٹ کا محافظ ہے ۔اہل حدیثوں سے بڑھ کر عقیدہ ختم نبوت کا محافظ اور داعی کوئی نہیں ہو سکتا ۔ہم شرک فی اللہ کے بھی باغی ہیں اور شرک فی الرسالت ﷺ کے بھی باغی ہیں ، ہمیں کوئی ختم نبوت کا سبق نہ پڑھائے۔ جو ختم نبوت پر ہماری قربانیوں سے لاعلم ہے وہ تاریخ کا مطالعہ کرے۔ہم سنجیدہ فکر لوگ ہیں۔ دین ،ایمانیات اور عقائد اسلام پر سیاست نہیں کرتے۔ دینی ایشوز پر سیاست چمکا نے والوں کے بارے میں عوام بہتر جانتی ہے۔کون کس کے اشارے پر فتنہ پروری کررہا ہے یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلانے میں ہمارے بزرگوں کی

قربانیاں شامل ہیں ۔ ہم نے حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی دینی اقدار اور شعائر اسلام کے منافی قانون سازی کی مخالفت کی ہے ۔وہ مدارس دینیہ کا تحفظ ہو یا تحفظ حقوق نسواں کا بل ہو ،ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر حق کی بات کی اور پنجاب حکومت کے تحفظ نسواں بل کو قرآن وسنت کے متصادم قراردیا ۔اس سے قبل پرویزمشرف دور میں بھی وفاق کی طرف سے پیش کیے گئے تحفظ خواتین ایکٹ کو بھی قرآن وسنت کے متصادم قراردیا تھا

۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ اصولی سیاست کی، ہم نے پرمٹ، پلاٹ اور مراعات کی کبھی سیاست نہیں کی۔ ہم نے اپنے عقائد ونظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، عہدوں اور مناصب کو ہم کبھی خاطر میں نہیں لائے۔ایک سیٹ کیا درجنوں سیٹیں حتی کہ ہماری جانیں بھی آقا ﷺ کی حرمت پر قربان۔ہم نے ہمیشہ پرامن سیاست کی ،لاٹھی گولی اور گالی کی سیاست ہمارے نبی ﷺ کی سیرت نہیں، حضورکی سیرت طیبہ ﷺ سے ہمیں سبق

ملتا ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی دلیل کی بنیاد پر بات کی جائے، اسکے لیے اخلاقی حدودو قیود کوکبھی پامال نہیں کرنا چاہیے ۔ بدقسمتی سے آج مذہب کے نام پر بعض لوگ گالی کی سیاست کو رواج دے رہے ہیں اورختم نبوت کی آڑ میں پوائنٹ سکورنگ کررہے ہیں ۔ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ دین مصطفی ﷺ کی خاطر ہر تکلیف برداشت کرسکتے ہیں مگر کسی کوجھوٹے فتوے لگانے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے اور اپنے مسلک

اور جماعت کے وقار پر کوئی آنچ برداشت نہیں کریں گے ۔یہ پاکستان ہمارا ہے ،یہاں امن وامان قائم رکھنا ہمارا دینی آئینی اور قومی فریضہ ہے ۔ ریاست اپنی رٹ قائم کرے ، فساد کی سیاست کرنے والوں قانون کے تابع کرے ، کشیدگی پیدا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…