اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

کیا واقعی ریاست کے اندر ریاست موجود ہے‘ اگر ہاں تو ۔۔اس کا ذمہ دار کون ہے؟ن لیگ نے کمال کردکھایا،کیاعمران خان کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ پورا ہوسکتاہے؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 2  اکتوبر‬‮  2017 |

میں آج پوری قوم کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ ن کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں‘ آج پارٹی نے کمال کر دیا‘ میاں نواز شریف ڈس کوالی فکیشن کے بعد ملک اور پارٹی دونوں کے آئین کے مطابق پارٹی کے صدر نہیں رہ سکتے تھے‘ پارٹی نے پہلے تمام پارٹیوں کو سینٹ میں مینج کیا‘ ایم کیو ایم کے ایک سینیٹر کا ووٹ حاصل کیا پھر آج قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بھرپور احتجاج کے باوجود الیکشن ریفارمز 2017ء کا بل پاس کرایا‘

ایک ہی دن میں پارٹی کا آئین تبدیل کیا اور اب پارٹی تھوڑی دیر بعد میاں نواز شریف کو نااہلی کے باوجود اپنا صدر منتخب کر لے گی‘ یہ آئین میں پہلی ایسی تبدیلی ہے جس پر چند لمحوں میں من و عن عمل ہو گیا‘ یہ تیزی اور یہ عمل درآمد کمال ہے اور پوری قوم اس کمال پر ن لیگ کو جتنی بھی مبارکباد پیش کرے وہ کم ہو گی کیونکہ یہ تیزی اور یہ عمل درآمد ثابت کرتا ہے حکومت اگر چاہے تو یہ آئین کی کسی بھی کلاز پر یوں چٹکی بجا کر عمل کر سکتی ہے چنانچہ کاش ہماری حکومت نے آئین کے اس آرٹیکل 25 پر بھی اس تیزی سے عمل کیا ہوتا جو تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے جس میں میاں نواز شریف اور محمد نواز دونوں برابر کے شہری ہیں‘ کاش حکومت نے اسی تیزی سے آرٹیکل 25 اے پر عمل کیا ہوتا جس کے تحت ریاست پانچ سے سولہ سال تک ہر بچے کو مفت تعلیم دینے کی پابند ہے‘ کاش حکومت نے آئین کے آرٹیکل 31‘ آرٹیکل 32‘ آرٹیکل 37‘ آرٹیکل 38 اور 40 اے پر بھی اسی رفتار سے عمل درآمد کیا ہوتا جو حکومت کو ملک میں اسلامی ریاست قائم کرنے‘ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے‘ معاشرتی برائیوں کے خاتمے‘ فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے‘ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے کا حکم دیتا ہے‘ میرا یقین ہے ہماری حکومت نے آج اگر ان تمام آرٹیکلز پر آج کی سپرٹ کے مطابق کام کیا ہوتا تو آج ہمارے وزیر داخلہ عدالت کے بند گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ نہ کہہ رہے ہوتے میں احتجاجاً استعفیٰ دے دوں گا، کیا واقعی ریاست کے اندر ریاست موجود ہے‘ اگر ہاں تو اس کا ذمہ دار کون ہے‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے اور عمران خان نے آج ایک بار پھر نئے الیکشنوں کا مطالبہ کر دیا،کیا یہ ممکن ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…