منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

کیا واقعی ریاست کے اندر ریاست موجود ہے‘ اگر ہاں تو ۔۔اس کا ذمہ دار کون ہے؟ن لیگ نے کمال کردکھایا،کیاعمران خان کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ پورا ہوسکتاہے؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 2  اکتوبر‬‮  2017 |

میں آج پوری قوم کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ ن کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں‘ آج پارٹی نے کمال کر دیا‘ میاں نواز شریف ڈس کوالی فکیشن کے بعد ملک اور پارٹی دونوں کے آئین کے مطابق پارٹی کے صدر نہیں رہ سکتے تھے‘ پارٹی نے پہلے تمام پارٹیوں کو سینٹ میں مینج کیا‘ ایم کیو ایم کے ایک سینیٹر کا ووٹ حاصل کیا پھر آج قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بھرپور احتجاج کے باوجود الیکشن ریفارمز 2017ء کا بل پاس کرایا‘

ایک ہی دن میں پارٹی کا آئین تبدیل کیا اور اب پارٹی تھوڑی دیر بعد میاں نواز شریف کو نااہلی کے باوجود اپنا صدر منتخب کر لے گی‘ یہ آئین میں پہلی ایسی تبدیلی ہے جس پر چند لمحوں میں من و عن عمل ہو گیا‘ یہ تیزی اور یہ عمل درآمد کمال ہے اور پوری قوم اس کمال پر ن لیگ کو جتنی بھی مبارکباد پیش کرے وہ کم ہو گی کیونکہ یہ تیزی اور یہ عمل درآمد ثابت کرتا ہے حکومت اگر چاہے تو یہ آئین کی کسی بھی کلاز پر یوں چٹکی بجا کر عمل کر سکتی ہے چنانچہ کاش ہماری حکومت نے آئین کے اس آرٹیکل 25 پر بھی اس تیزی سے عمل کیا ہوتا جو تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے جس میں میاں نواز شریف اور محمد نواز دونوں برابر کے شہری ہیں‘ کاش حکومت نے اسی تیزی سے آرٹیکل 25 اے پر عمل کیا ہوتا جس کے تحت ریاست پانچ سے سولہ سال تک ہر بچے کو مفت تعلیم دینے کی پابند ہے‘ کاش حکومت نے آئین کے آرٹیکل 31‘ آرٹیکل 32‘ آرٹیکل 37‘ آرٹیکل 38 اور 40 اے پر بھی اسی رفتار سے عمل درآمد کیا ہوتا جو حکومت کو ملک میں اسلامی ریاست قائم کرنے‘ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے‘ معاشرتی برائیوں کے خاتمے‘ فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے‘ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے کا حکم دیتا ہے‘ میرا یقین ہے ہماری حکومت نے آج اگر ان تمام آرٹیکلز پر آج کی سپرٹ کے مطابق کام کیا ہوتا تو آج ہمارے وزیر داخلہ عدالت کے بند گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ نہ کہہ رہے ہوتے میں احتجاجاً استعفیٰ دے دوں گا، کیا واقعی ریاست کے اندر ریاست موجود ہے‘ اگر ہاں تو اس کا ذمہ دار کون ہے‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے اور عمران خان نے آج ایک بار پھر نئے الیکشنوں کا مطالبہ کر دیا،کیا یہ ممکن ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…