ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

ججز اور جنرلز کا احتساب،سپریم کورٹ میں بڑی کارروائی ہوگئی

datetime 2  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی) سپریم کورٹ نے ججز اور جنرلز کے احتساب کے لیے دائر درخواست پر اعتراض لگا دیا جبکہ درخواست گزار نے اعتراضات کا جواب عدالت عظمیٰ کی لاہور رجسٹری میں جمع کرادیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست پر اعتراض لگایا گیا کہ ججز اور جنرلز کے احتساب کے لیے درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا۔یہ درخواست وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفراللہ خان نے دائر کی تھی۔

بعد ازاں بیرسٹر ظفر اللہ خان نے عدالت کے اعتراضات کا جواب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کروا دیا۔بیرسٹر ظفر اللہ نے اپنے جواب میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججز کے احتساب کے لیے قائم کی گئی تھی۔سپریم جوڈیشل کونسل نے کسی جج کو آج تک فارغ نہیں کیا بلکہ ان کو ریٹائرمنٹ پر تمام مراعات حاصل ہوتی ہیں۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ججز اور جنرلز کی حلف برداری میں صادق اور امین کا لفظ موجود نہیں جو کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ مقتدر ادارہ ہے جبکہ ججز اور جنرلز کا احتساب پارلیمنٹ کے ذریعے کرنا آئین کا تقاضہ ہے۔بیرسٹر ظفر اللہ نے اپنے جواب میں کہا کہ قانون کے تحت جج اور جنرل اپنی آمدن اور اخراجات کے اعداو شمار پارلیمنٹ کی احتساب کمیٹی کے روبرو پیش کرنے کے پابند ہیں۔وطن پارٹی کے سربراہ نے عدالت عظمی سے استدعا کی کہ ججز اور جنرلز کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت اپنی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات پارلیمانی احتساب کمیٹی کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت دی جائے۔آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی از سر نو تشریح کرتے ہوئے صادق اور امین کا لفظ ججز اور جنرلز کے حلف میں شامل کرنے کے احکامات صادر کیے جائیں۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے شہری تمام لوگوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ اور سلوک دیکھنا چاہتے ہیں لہٰذاان کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…