منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عدالتی کارروائی ہائی جیک کر لی گئی، اقتدار ہمارے پاس مگر اختیار کوئی اور چلا رہا ہے،عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پروفاقی وزرا بہت کچھ کہہ گئے

datetime 2  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا، جن کو گاڈ فادر اور مافیا کہا گیا وہ عدالت میں پیش ہورہے ہیں، سعد رفیق، یہ اوپن ٹرائل نہیں ہائی جیک ٹرائل ہے، ایک مجرم بھاگ گیا،ایک مظلوم عدالت میں پیش

ہوا ہے، اقتدار کسی اور پاس ہوتاہے اور اختیار کسی اور کے پاس، پرویز رشید، سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر رینجرز کی جانب سے کابینہ ارکان کو عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر وفاقی وزرا پھٹ پڑے۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی آج احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر رینجرز اہلکاروں نے صحافیوں اور وفاقی وزرا کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا، وفاقی وزرا اپنا تعارف کروا کر عدالت میں جانے کی اجازت طلب کرتے رہے مگر انہیں عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملی جبکہ صحافیوں کو خصوصی پاسز کے اجرا کے باوجود صحافیوں کو بھی عدالت میں جانے سے روک دیا گیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کٹھلی پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتے اگر یہی رویہ رہا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہمیں اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا، نامکمل ریفرنسز پیش کیے گئے، باربار کہتے رہے انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا، جن کو گاڈ فادر اور مافیا کہا گیا وہ عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ یہ اوپن ٹرائل نہیں ہائی جیک ٹرائل ہے، ہائی جیک کس نے کیا یہ سپریم کورٹ بتائے گی۔ انہوں نے پرویز مشرف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مجرم بھاگ گیا جبکہ ایک مظلوم عدالت میں پیش ہوا ہےپاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ اقتدار کسی اور پاس ہوتاہے اور اختیار کسی اور کے پاس۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…