2اکتوبر کو نوازشریف کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ تحریک انصاف نے ن لیگ کو ایک اور بُری خبر سنادی

  جمعہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2017  |  18:46

لودھراں(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہاہے کہ دو اکتوبر کو نوازشریف پر فرد جرم عائد ہوجائیگی تو معلوم ہوجائیگا کہ انہیں کیوں نکالا؟شریف خاندان نے ہمیشہ ڈیل کی ،مشرف دور میں اگر ڈیل کرکے سعودی عرب نہ جاتے تو پہلے وہ ہوجاتا جو آج ہورہاہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیرترین نے بتایا کہ شریف خاندان ڈیڑھ سال میں سپریم کورٹ کو کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکا تو اب کیا فراہم کریگا۔انہوں نے کہا کہ قوم کو مبارک ہو کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو ہمیشہ کیلئے نااہل قرار دیدیا۔جہانگیر ترین کا کہناتھاکہ شاہدخاقان


عباسی بار بار کہہ رہے ہیں کہ اصل وزیر اعظم نوازشریف ہیں،اگر وہ اصل وزیراعظم نہیں تو اسمبلی توڑ کر نئے الیکشن کرادیں ۔ دوسری جانب  پاکستان تحریک انصاف نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو خط لکھ کر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ۔تحریک انصاف کی مرکزی رہنما عندلیب عباس کی طرف سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد ہونے کے بعد اسحاق ڈار کا منصب سے چمٹے رہنا شرمناک ہے۔ سنگین جرائم میں ملوث وزیر خزانہ پاکستان کے لیے باعث شرمندگی ہیں۔اس لیے انہیں فوری عہدے سے ہٹایا جائے ۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اسحاق ڈار کو تحفظ دیا تو عدالت عظمی سے فوری نوٹس لینے کی درخواست کریں گے۔ قومی خزانے کی نگہبانی مجرم کے سپرد نہیں کی جاسکتی۔عندلیب عباس کا کہنا ہے کہ قومی خزانے کے تحفظ میں ناکامی پر وزیر اعظم کا بھی محاسبہ کریں گے۔یاد رہے کہ چند روز قبل احتساب عدالت میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎