منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’انٹیلی جنس بیورو کے چیف فوراََ مستعفی ہوں‘‘

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان نے لکھا کہ آئی بی سربراہ کو فوری مستعفیٰ ہوجانا چاہیئے۔ وہ 4 دن سے لندن میں کیا کر رہے تھے؟ سربراہ آئی بی ٹیکس کے پیسوں سے لندن میں نااہل وزیراعظم کےساتھ ملاقات کرنے کیوں گئے؟ ۔عمران خان نے لکھا کہ سربراہ آئی بی

سرکاری ملازم ہیں اور انہیں ریاست کے پیسوں سے تنخواہ دی جاتی ہے۔ ان کا کام ریاست کی خدمت ہے کرنا ہے، شریف خاندان کی نہیں ۔نااہل وزیر اعظم کو ملنے والا سرکاری پروٹوکول شرمناک،یہ مافیا رول ہے جمہوریت نہیں،آئی بی چیف 4 دن لندن میں کیا کررہے تھے،آئی بی چیف ریاست کا نمائندہ اس کی ذمہ داری ریاست کی خدمت ہے شریف خاندان کی نہیں، عمران خان برس پڑے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں نواز شریف کو احتساب عدالت پیشی کے موقع پر سرکاری پروٹوکول دئیے جانے پر برس پڑے۔ انہوں نے ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا کہ منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری سمیت جعلسازی پرنااہل ہونے والے وزیر اعظم کوملنے والا سرکاری پروٹوکول شرمناک ہے اوریہ مافیا رول ہے جمہوریت نہیں جب کہ اس سے عوام کو غلط پیغام جاتا ہے کہ طاقتور قانون توڑسکتا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کے حوالے سے اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس چیف حکومتی عہدہ ہے اوراس کی ذمہ داری ریاست کی خدمت ہے شریف خاندان کی نہیں۔آئی بی چیف 4 دن لندن میں کیا کررہے تھے، وہ کیا نااہل وزیراعظم سےملنے گئے تھے۔آئی بی چیف ریاست کا نمائندہ ہے شریف خاندان کا نہیں، جسے ریاست کا وفادارہونا چاہیے۔ انہوں نے آئی بی چیف سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…