منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

91کلومیٹر طویل نئی موٹر وے، زبردست اعلان کردیاگیا،تفصیلات جاری

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

سیالکوٹ (آئی این پی)91کلومیٹر طویل لاہور سیالکوٹ موٹروے پراجیکٹ کی تکمیل پر مجموعی طور پر 43ارب84کروڑ 70لاکھ روپے خرچ ہونگے ‘ نیشنل ہائی اتھارٹی کے میگا پراجیکٹ کا کام فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی نگرانی میں چار سیکشن میں شروع ہوچکا ہے جبکہ موٹروے کی تعمیر کیلئے مطلوبہ زمین کی خریداری کا مرحلہ پہلے ہی مکمل کرلیا گیا ہے اور زمین کے مالکان میں مجموعی طور پر 5ارب 90کروڑ40 لاکھ روپے کے معاوضہ جات تقسیم کر دیئے گئے ہیں ۔

یہ بات صوبائی وزیر بلدیات و کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب محمد منشاء اللہ بٹ نے اتوار کو لاہور سیالکوٹ روڈ کے مختلف سیکشن پر جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لینے کے دوران مقامی لوگوں سے گفتگوکرتے ہوئے بتائی ۔ میئر آف سیالکوٹ توحید اختر چودھری اور رکن صوبائی اسمبلی چودھری محمد اکرام کے علاوہ این ایچ اے اورایف ڈبلیو او کے متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ انہوں نے مزیدنے بتایا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے کی 4لین ہونگی جس میں 8انٹر چینجز بھی تعمیر کئے جائیں گے جبکہ سروس ایریاِ، آئی ٹی ایس ، فسٹ ایڈ میڈیکل سنٹر ، ہارٹی کلچرل اور منی سروس ایریا بھی منصوبہ کا حصہ ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اس منصوبے میں معیار کو یقینی بنانے کیلئے ڈائریکٹیوریٹ آف ڈیزائن اینڈ کنسلٹینسی رسالپور کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ یہ منصوبہ لاہور اور سیالکوٹ کے عوام کو اور زیادہ قریب لے آئے گا اور علاقہ میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کی تکمیل میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جائے گااورمنصوبہ کی بروقت تکمیل کیلئے ہفتہ وارآن گراؤنڈ پراگرس چیک کی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبہ میں زمین کی 100فیصدی نشاندہی مکمل ہوچکی ہے اور زمین این ایچ اے کے حوالے کردی گئی ہے جبکہ ارتھ کا کام 16فیصد اور اسٹریکچر ز کا کام تقریبا 6فیصد ی مکمل ہوا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس منصوبہ پر کام کی رفتار کو مزید تیز کریں تاکہ مقررہ ٹائم لائن کے اندر اس منصوبہ کی تکمیل ممکن ہوسکے ۔ قبل ازیں صوبائی وزیر نے شہباز شریف فلائی اوور سبلائم چوک کے زیر تعمیر منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور منصوبے کی رفتار کو مزید تیز کرنے کیلئے ایکسئین ہائی سے کو ہدایت کی ۔ میئر میونسپل کارپوریشن سیالکوٹ توحید اختر چودھری نے کہاکہ ترقیاتی منصوبو ں کو شہر کی 50سے100ضروریات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کرنا ہونگے

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ویسٹرن بائی پاس کے منصوبے میں سروس لین شامل کی جائیں تاکہ یہ منصوبے کئی دہائیوں کیلئے شہر کی ٹریفک کا دباؤ برداشت کرسکے ۔ انہوں نے کہاکہ شہر کے ترقیاتی منصوبہ بندی کیلئے متعلقہ اداروں اور ماہرین کے مشاورت سے سوچ سمجھ کر ڈایزئن کرنا ہوگا تانکہ عوامی ٹیکس سے حاصل کیا گیا ترقیاتی فنڈز کا بہترین مصرف ہوسکے ۔ رکن صوبائی اسمبلی چودھری محمد اکرام نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کام کی رفتار اور معیار کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ اداروں کو نگرانی کا عمل فول پروف بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سپروائزر اگر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں تو منصوبوں کے معیار کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…