پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

یہ اچانک کیا ہوگیا؟نوازشر یف کے اچانک سب سے بڑے فیصلے نے سیاسی عوامی سمیت تمام حلقوں کو حیران کردیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشر یف کی اچانک وطن واپسی نے سیاسی عوامی سمیت تمام حلقوں کو حیران کردیا۔تفصیلات کے مطابق (ن) لیگ کی مخالف سیاسی اورعوامی سمیت دیگر حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ نوازشر یف اب لندن سے ہی (ن) لیگ کے سیاسی اور حکومتی معاملات کو چلائے گے مگر اتوار کے روز میاں نوازشر یف کی جانب سے سوموار  پاکستان واپسی کے اچانک اعلان نے سب کو حیران کرد یا اور تمام حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں ہوتیں رہیں ۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن سے فوری طور پر وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے ٗ منگل کے روز احتساب عدالت میں بھی پیش ہوں گے۔ذرائع نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پی آئی اے کی پرواز 786 کے ذریعے پیر کی صبح 7 بجے وطن پہنچیں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ لندن میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق کچھ پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف کو نیب عدالت میں پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا تاہم اس کے باوجود انہوں نے پیش ہونے کا فیصلہ کیا سابق وزیراعظم نوازشریف منگل کو احتساب عدالت میں پیش ہونگے ذرائع کے مطابق وطن واپسی کے بعد نواز شریف اعلیٰ سطح کا سیاسی اجلاس بھی طلب کریں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وطن واپسی کے بعد ن لیگ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور بھرپور انداز میں سامنے آئیگی ٗاس حوالے سے جب مسلم ن نواز کے ترجمان سینیٹر مشاہد اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس خبر کی تصدیق کی۔مشاہد اللہ نے کہا کہ نواز شریف پاکستانی رہنما ہیں اور پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پاکستانی میں اپنا کردار ادا کرنے آرہے ہیں ٗوہ ن لیگ اور پاکستانی عوام کے قائد ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان کی واپسی کے ساتھ ہی لندن سے بیٹھ کر پارٹی چلانے کی باتیں غلط ثابت ہوگئیں۔

اس سے قبل نواز شریف اور شہباز شریف کی ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مستقبل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو پاکستان کے سیاسی حالات اور زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لندن جانے سے قبل مولانا فضل الرحمان، چوہدری نثار علی خان، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ حارث سمیت دیگر اہم رہنماؤں سے سیاسی امور اور ملکی سیاسی حالات پر صلاح مشورہ کیا تھا جبکہ ایک غیر سیاسی شخصیت سے بھی ان کی اہم ملاقات ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…