جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

’’سلمان بٹ کی واپسی کا گرین سگنل‘‘ بورڈ عہدیداروں سے کونسے مشکوک افراد ملے؟ عامر سہیل اور رمیز راجہ ساری کہانی سامنے لے آئے

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایس ایل فکسنگ کیس میں ملوث کرکٹرز کو کم سزائیں دی گئیں، اب سلمان بٹ کو واپس لانے کی تیاری ہو رہی ہے، عامر سہیل نے کہاکہ کرپشن کوجڑ سے اکھاڑنے کیلیے پی سی بی آفیشلز پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔ سلمان بٹ کی واپسی کا

گرین سگنل ملتے ہی کرپشن کیخلاف بورڈ کی پالیسی پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ تفصیلات کے مطابق چیف سلیکٹرانضمام الحق کی جانب سے فکسنگ سکینڈل میں سزا یافتہ بلے باز سلمان بٹ کی واپسی کا سگنل دیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ سلمان بٹ کی فٹنس بہترین ہے، انھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے بعد ہائی پرفارمنس کیمپ کے دوران بھی اپنی کارکردگی سے متاثر کیا،اوپنر کو قومی ٹیم میں واپس لانے سے قبل ’’اے‘‘ ٹیم کے ساتھ ٹور کرائے جائیں گے۔ انضمام الحق کا بیان سامنے آتے ہی بورڈ کی کرپشن کے خلاف پالیسیوں پر انگلیاں اٹھنے لگ گئی ہیں ۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے انضمام الحق کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئےسماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پی ایس ایل فکسنگ کیس میں ملوث کرکٹرز کو کم سزائیں دی گئیں، اب سلمان بٹ کو واپس لانے کی تیاری ہو رہی ہے۔عا مر سہیل نے کہا کہ کرپشن کوجڑ سے اکھاڑنے کیلیے پی سی بی آفیشلز پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا تھا کہ مشکوک افراد کی بورڈ عہدیداروں سے کھلے عام ملاقاتیں کھلاڑیوں کو بھی غلط جانب جانے کی شہ دے رہی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بورڈ میں مشکوک ماضی کے حامل کرکٹرز کو عہدے ملنے سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ کرپشن کرنے والوں کی کوئی پکڑ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…