پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سزائیں تو دور کی بات ،مقدمات بھی چل جائیں تو بڑی بات ہے، سینئر قانون دان کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ مفرور کی غیر موجودگی میں مقدمے کی سماعت غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔ شریف خاندان اگر واپس نہ آیا تو مقدمے کی سماعت بھی نہیں ہو سکے گی اور معاملہ ’ٹھنڈا‘ پڑ جائے گا،سینئر قانون دان اور سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم کی نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں حامد میر سے گفتگو۔ تفصیلات کے

مطابق پاکستان کے سینئر قانون دان اور سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم نے نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی زمانے میں پاکستان میں یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی شخص باہر چلا جاتا یعنی ’مفرور‘ ہو جاتا، بالخصوص انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمے میں ملوث کوئی شخص ایسا کرتا تو اس کی غیر موجودگی میں مقدمے کی سماعت ہوتی تھی لیکن پاکستان میں اب یہ نہیں ہوتا کیونکہ سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ مفرور کی غیر موجودگی میں مقدمے کی سماعت غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔شریف خاندان اگر واپس نہ آیا تو مقدمے کی سماعت بھی نہیں ہو سکے گی اور معاملہ ’ٹھنڈا‘ پڑ جائے گا۔شریف خاندان کے خلاف مقدمات کے معاملے میں ان لوگوں کو موقع دیا جائے گا، نہیں آئیں گے تو مقدمے کی سماعت آگے بھی نہیں چلے گی۔ پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے نیب میں ریفرنس اور ان کی سماعت کے بعد فیصلے کی مدت کا دورانیہ 6ماہ متعین کیا تھالیکن یہ مدت اس وقت دی تھی جب سارا شریف خاندان پاکستان میں موجود تھا ور یہ مدت بھی اس لئے تھی کہ سب لوگ مقدمے کی سماعت میں حصہ لیں گے۔ لیکن اگر اب یہ لوگ نہیں ہوں گے تو پھر مقدمے کی سماعت بھی نہیں ہو گی اور سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 6 مہینے کی مدت بھی پوری نہیں ہو سکے گی، اور یہ معاملہ ’ٹھنڈا‘ پڑ جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…