پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

راحیل شریف سعودی عرب میں کیا کررہے ہیں؟ سعودی عرب سے معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ روایتی آپریشنز اسلامی فوجی اتحاد کے مینڈیٹ میں شامل نہیں جبکہ مذکورہ اتحاد کے مینڈیٹ میں دہشت گردی کو شکست دینا، رکن ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد، خفیہ معلومات کا تبادلہ، دہشت گردوں کی مالی امداد کو روکنا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں

کو فروغ دینا شامل ہے۔وزیر دفاع نے پاک فوج کے سابق جنرل راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کے معاملے پر سینیٹ کو اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ وزارت دفاع کو راحیل شریف کو فوجی اتحاد کی سربراہی کیلئے این او سی جاری کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کی درخواست 14 فروری 2017 کو وزارت خارجہ کے ذریعے موصول ہوئی تھی۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے کو وزارت دفاع کی جانب سے جنرلز ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) کے ساتھ 18 اپریل 2017 کو طریقہ کار وضع کرنے کیلئے زیر غور لایا گیا۔وزیر دفاع نے تحریری طور پر بتایا کہ راحیل شریف کو ٹی او آرز طے ہونے سے قبل فوجی اتحاد کی کمانڈ سنبھالنے کے لیے این او سی جاری کیا گیا اور تاحال ٹی او آرز کو حتمی شکل دینے سے متعلق مذکورہ کانفرنس منعقد نہیں ہوئی۔انہوں نے سینیٹ کو بتایا کہ اسلامی فوجی اتحاد کا مقصد دہشت گردی کو شکست دینا ہے جبکہ روایتی آپریشنز فوجی اتحاد کا مینڈیٹ نہیں اور اسلامی فوجی اتحاد ابھی تک تشکیل کے مراحل میں ہے۔وزیر دفاع نے جواب میں بتایا کہ سعودی حکام نے معلومات فراہم کی ہیں کہ اس اتحاد کا مقصد صرف دہشت گردی پر قابو پانا ہے لہذا ٹی او آر کا تعلق دہشت گردی کے خاتمے سے ہوگا اور ٹی او آرز کو اتحاد کے رکن ممالک کے وزرائے دفاع کی کانفرنس کے دوران حتمی شکل دی جائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…