ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

ٹرمپ نے پاکستان کو میلی نظروں سے دیکھا تو ۔۔۔! مولانا سمیع الحق مشتعل،انتہائی اقدا م کی دھمکی دیدی

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

بنوں (این این آئی) جمعیت علمااسلام کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاہے کہ شمالی وزیرستان اور بعض دیگر شورش زدہ علاقوں میں سکولوں اور کالجوں کی بحالی کے باوجود دینی مدارس اوردرسگاہوں کی بحالی کو معطل رکھنا حکمرانوں کی دین کے ساتھ امتیازی سلوک کا کھلا ثبوت ہے اوروہ بیرونی دشمنوں کے دباؤ پر غیرت و حمیت اوراپنے دینی روایات سے دستبردار ہوسکتے ہیں ،

مولانا سمیع الحق یہاں بنوں کے ایڈیٹوریم ہال فضل قادری شہید پارک میں جمعیت علماء اسلام س کے زیراہتمام تحفظ مدارس و استحکام پاکستان سے خطاب کررہے تھے، جس میں جنوبی اضلاع بنوں کرک کوہاٹ اور شمالی وزیرستان کے علماء،قبائلی مشران کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے پاکستان کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ دھمکی آمیز پالیسیوں کی مذمت کی اور اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ نہ انہوں نے افغانستان میں روس سے سبق لیا نہ وسائل بے سہارا طالبان کے ہاتھوں خفت آمیز شکست سے عبرت پکڑی۔ اگر ٹرمپ نے پاکستان کو میلی نظروں سے دیکھا تو پاکستان کی فوج اور ۲۲ کروڑ مسلمان انہیں تاریخی ذلت و رسوائی سے دوچار کریں گے۔ اس سے قبل بنوں جاتے ہوئے راستہ میں چندہ خورم کے مقام پر مدرسہ درالارقم کے علماء طلبا نے مولانا مقصود گل کی قیادت میں شاندار استقبال کیا۔مختصر خطاب کے بعد قائد جمعیت کرک روانہ ہوگئے ، کرکٹ ٹول پلازہ پر کثیر تعداد میں علماء اور کارکنوں نے استقبال کیا اور گاڑیوں کے جلوس میں کرک بازار لے جایا گیا جہاں جمعیت کے دیرینہ مخلص اور بزرگ رہنما موالنا عبدالوھاب کی وفات پر ان کے صاحبزادگان سے تعزیت کی، اور ضلعی امیر مولانا سبز علی خان کی طرف سے ایک پرتکلف ظہرانے میں شرکت کی۔ کرک سے براستہ سورڈاگ بنوں جاتے ہوئے سورڈاگ میں مولانا نور آزاد حقانی اور مولانا صفی اللہ حقانی کی قیادت میں یہاں کے عوام اور جمعیت کے کارکنوں نے سینکڑوں موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے جلوس میں قائد محترم کو سورڈ اگ لے جایا گیا جہاں مولانا نور آزاد حقانی کے دادا کی وفات پر ان سے تعزیت کی،

اسی طرح بنوں کے علماء اور کارکنوں نے سپین تنگی تھانہ قائد جمیعت کا والہانہ استقبال کیا اور ان پر گلپاشی کی گئی، اور جلسہ گاہ جلوس کی شکل میں پہنچایا گیا۔ ایڈیٹوریم ہال پہلے سے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا،بنوں کے تمام بڑے شیوخ اورسرکردہ علماء اسٹیج پر موجود تھے۔ کانفرنس سے قائد جمعیت کے علاوہ جمعیت کے صوبائی سرپرست مولانا عبدالقیوم حقانی، مرکزی نائب امیر مولانا حامد الحق حقانی ، صوبائی امیر مولانا سید یوسف شاہ، اور فاٹا کے امیر مولانا عبدالحئی حقانی ،

مفتی اسلام نور حقانی، مولانا نسیم علی شاہ، مفتی عبدالغنی ، مولانا حبیب اللہ حقانی، مولانا سبز علی ،مولانا سیف الدین ،مولانا سید عبدالستار شاہ بخاری، و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شمالی وزیرستان کے علماء اور مالکان کی جانب سے اپنے علاقہ کے روایتی پگڑی پہنائی گئی،مولانا سمیع الحق نے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے پاکستان کے اسلامی تشخص مٹا کر اسے لبرل ازم اور سیکولرازم بنانے کے عزائم کو تفصیل سے بیان کیا اور کہاکہ پاکستان کے آئین کے اسلامی تشخص مٹانے کے عزائم خاک میں ملا دئیے جائیں گے ۔

مولانا سمیع الحق نے میانمار کے مسلمانوں پر شرمناک عزائم پر مسلمانوں حکمرانوں کی بے حسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت اسلامی ممالک کا میانمار کے حکمرانوں کو فوجی اور عسکری اقدامات کے ذریعہ روکنے کی ضرورت تھی مگر نہ او آئی سی زندہ ہے نہ عرب کا فوجی اتحاد نے اسلامی حمیت کی انگڑائی لی نہ اقوام متحدہ کے کانوں میں جوں تک رینگ سکی۔کانفرنس کے ذریعے میانمارمیں مسلمانوں پر جاری ظلم و تشدد کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کیا۔

اور شمالی وزیرستان کے دینی مدارس اور مساجد کی تعمیر نو اور فی الفور بحالی کا مطالبہ کیا،ایک قرارداد میں صوبائی حکومت کے علماء کے بارے میں نیک عزائم کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا،لیکن اس شرط پر کہ حکومت یہ گارنٹی دے کہ وہ مساجد میں مداخلت نہیں کریں گے ،ہم مساجد اور مدارس کی آزادی کو کبھی سلب نہیں کرنے دیں گے ۔

جلسہ کے بعد مولانا سمیع الحق نے جمعیت کے بزرگ شخصیت علاقہ کے معروف روحانی پیشوا مولانا شیخ نور احمد شاہ کے گاؤں شاہ دیو خار جاکر ان کی عیادت کی اوران کی صحت یابی کے لئے دعا کی گئی۔ اسی طرح جمعیت کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا شفقت اللہ حقانی کے گھر جاکر ان کے والد کی وفات پر ان سے تعزیت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…