جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پی آئی اے کا جرمن ایم ڈی ہوٹل کا’’ویٹر‘‘نکلا، کن خدمات کے صلے میں نوکری انعام میں ملی ؟

datetime 16  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی ائیر لائن پی آئی اے کے سابق ایم ڈی ایک ویٹر(کیٹرر)تھا، جرمنی جانیوالے پی آئی اے آفیشلز اس سے مفت کھانے کھایا کرتے تھے، خدمات کے صلے میں ایم ڈی پی آئی اے لگایا گیا اور جاتے جاتے ملی بھگت سے قومی ائیرلائن کا ایک

طیارہ بھی ساتھ لے گیا، معروف اینکر مبشر لقمان کا نجی ٹی وی چینل پروگرام میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں انکشاف کرتے ہوئے معروف اینکر مبشر لقمان نے بتایا ہے کہ قومی ائیر لائن کا سابق ایم ڈی جو جرمن شہری تھا جرمنی میں ایک ہوٹل میں ویٹر(کیٹرر )تھا اور جرمنی جانے والے پی آئی اے کے ہائی آفیشلز کو مفت کھانے کھلایا کرتا تھا اور اس کی انہی خدمات کے پیش نظر اسے ایم ڈی پی آئی اے لگایا گیا۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سینٹ میں پی آئی اے کے ایک جہاز کے لاپتہ ہونے کا اعتراف کیا گیا ہے اور یہ جہاز بعد میں معلوم ہوا ہے کہ پی آئی اے کا یہ سابق ایم ڈی جاتے جاتے اپنے ساتھ لے گیا ہے ، انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ جب اس پی آئی اے کے جرمن ایم ڈی کا نام ای سی ایل میں ہے تو وہ جہاز کیسے لے گیا؟جہاز لے جانا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ جہاز کی پرواز سے قبل اس کو کلین چٹ دینے والے لوگ اور انجینئیرنگ کے لوگ سول ایوی ایشن اتھارٹی بھی جہاز کے انجن کا معائنہ کرتے ہیں۔اور اگر ایک جہاز غیر قانونی طور پر فضائی حدود کراس کر رہا ہے تو پھر ائیر فورس کا کام ہے کہ وہ اسے پکڑیں۔ لیکن یہاں سب لوگ چُپ رہے اور جہاز گم ہو گیا اور آسج تک اس کی ایف آئی آر بھی نہیں کٹوائی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…