جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

مظفرآباد ‘حکومت کی طرف سے ہوٹلوں پر شادی بیاہ کے اوقات کار پر عملدرآمد نہ کروایا جاسکا

datetime 15  ستمبر‬‮  2017 |

مظفرآباد(این این آئی)حکومت کی طرف سے ہوٹلوں پر شادی بیاہ کے اوقات کار پر عملدرآمد نہ کروایا جاسکا۔رات گئے تک تقریبات کا سلسلہ زور شور سے جاری ،معصوم بچوں سمیت معمر افراد بھوک سے نڈھال ہونے لگے۔کھانا رات 1بجے کے بعد ،ہوٹلز اور شادی ہالز میں من پسند ریٹس سے سفید پوش طبقہ کو پیس کر رکھ دیا ۔اشرافیہ اور اہم حکومی زعماء ان تقریبات کی زینت بنتے ہوئے حوصلہ بڑھانے لگے۔دفعہ144بھی ہوائی ثابت

ہوئی کھلم کھلا خلاف ورزی فیشن بن گیا۔سرکاری ادارے دیگر قانون ومراعات پنجاب حکومت کی طرز پر مانگتے نہیں تھکتے مگر پنجاب میں ایسی تمام تقریبات رات10:30پر بند کردی جاتی ہیں مگر دارلحکومت مظفرآباد میں تقریبات کا رات گئے تک جاری رہنا سوالیہ نشان ہے۔مظفرآباد میں گنگا الٹی بہنے لگی۔تفصیلات کے مطابق حکومت اور ضلعی انتظامیہ طر ف سے شادہ بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش اور دفعہ 144کا نفاز کاغذوں تک محدود،شادی ہالز اور ہوٹلوں پرکھا نا رات ایک بجے کے بعد دیا جانے لگا۔ایپکس ارینا،بلال پلازہ،رائل کنٹینٹل ،سنگم ہوٹل ،نیلم ہوٹل ودیگر جگہوں پر شادی بیاہ کی تقریبات میں سیاسی حکومتی اہم شخصیات کی شرکت اور متعدد ڈشز کا سرعام اہتمام حکومتی رٹ کا مذاق اڑانے لگا۔رات کا کھانا 1بجے کے بعد لگایا جاتا ہے ۔جسکی وجہ سے شرکاء خاص کر خواتین ،شیرخوار بچے اور معمر افراد بھوک سے نڈھال ہوجاتے ہیں جبکہ ہال کی بکنگ لاکھوں میں کی جاتی ہے۔عوام الناس نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتی رٹ کا چیلنج کرنے والے ہوٹلز کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی کی جائے اور مناسب ریٹس سمیت ون ڈش کی پابندی کا اہتمام کیا جائے۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…