پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخواہ کے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، سکول کس حال میں ہیں؟ رپورٹ سامنے آتے ہی پی ٹی آئی منہ چھپانے لگی

datetime 14  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخواہ کے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے ”تعلیمی ایمرجنسی“ کے سب وعدوں اور دعوو¿ں کا بھانڈا پھوٹ گیا، تعلیم کا نعرہ لگانے والی خیبرپختونخواہ حکومت تعلیم میں پیچھے رہ گئی۔ رپورٹ سامنے آ گئی۔ خیبرپختونخواہ کے سرکاری سکولوں میں نہ پانی،نہ بجلی،نہ ٹائیلٹس ،حالت قابل رحم۔ چار سالوں تک اپنی عوام کو سبز باغ دکھانے والی خیبرپختونخواہ حکومت کا سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔

انڈی پینڈینٹ مانیڑنگ یونٹ محکمہ تعلیم خیبرپختونخواہ کی سالانہ رپورٹ میں ہوشربا انکشافات نے تحریک انصاف کے تعلیمی ایمرجنسی کے حوالے سے ا±ن سب وعدوں اور دعوو¿ں کو بے نقاب کر دیا ہے جس میں تعلیمی ایمرجنسی کی آڑ پر حکومت پنجاب کے ترقیاتی کاموں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخواہ کے سرکاری سکولوں کی حالت زار خراب قرار دی گئی ہے۔22فیصد سکولوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں،72فیصد سکول بجلی کی سہولت سے محروم،کوہستان میں 55 فیصد سکول میں ٹائیلٹس ہی نہیں۔ورلڈ بنک کی حالیہ رپورٹ ”پاکستان ڈویلپمنٹ آپ ڈیٹیس“کے مطابق بھی کے پی کے میں صرف 44 فیصد سکولوں میں بنیادی سہولیات دستیاب ہیں جبکہ پنجاب پاکستان بھر میں 93 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔ہر میدان میں حکومت پنجاب کی کارکردگی آج اپنے موقف کا منہ بولتا ثبو ت ہے کہ تعلیم ہو یا صحت،یا کوئی دوسرا شعبہ سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں کسی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ میٹرو کلچر کو ناکام کرنے کیلئے تحریک انصاف نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا آج وہی کلچر پشاور میں متعارف کرانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ لیپ ٹاپ اسکیم پر بھی تنقیدی نشتر چلائے گئے اور نجانے آج کس منہ سے خیبرپختواہ میں لیپ ٹاپ اسکیم کو فخر سے پیش کیا جا رہا ہے۔ قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ تعلیم کا نعرہ لگانے والے آج اِس میدان میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔

اور حسرت بھری نگاہوں سے شہبازشریف کے ویڑن کے مطابق محکمہ تعلیم پنجاب کے کارکردگی کو دیکھ کر منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخواہ کی عوام اضطراب میں ہے ، عوام کا کہنا ہے ،تحریک انصاف نے اپنے منشور اور ہماری ا±منگوں کے مطابق کچھ ڈلیور نہیں کیا۔ چار سال دوسرے کیلئے مشکلات کھڑی کرنے سے بہتر تھا کہ اپنی عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی جاتی۔آج ہم وہی کھڑے ہیں جہاں چار سال پہلے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…