پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

جرمن سفیرکا پشاور کے مختلف علاقوں کا دورہ ،بال کٹوائے،افغان مہاجرین کے کیمپ بھی گئے

datetime 14  ستمبر‬‮  2017 |

پشاور(آن لائن)جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے پشاور کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور حجام سے بال کٹوائے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے پشاور کا دورہ کیا اور بازاروں میں سکیورٹی کے بغیر بلا خوف شاپنگ کی اور ایک عام حجام سے بال بھی کٹوائے اور تصویر بنوائی۔اس کے علاوہ جرمن سفیر نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا سے ملاقات کی، نوشہرہ میں افغان مہاجرین کے کیمپ کا دورہ کیا اور حیات میڈیکل کمپلیکس کے دورہ پر انہوں نے مالی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے  پاکستان میں جرمنی کے سفیر نے راولپنڈی سے گوجرانوالہ تک ٹرین میں سفرکیا تھا۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایوان صعنت و تجارت کے عہدیداروں سے خطاب میں جرمن سفیر نے کہا کہ ٹرین سفیر کرنے کا مقصد دنیا کے تمام کاروباری حضرات کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کاروباری سرگرمیوں سمیت ہر لحاظ سے محفوظ ملک ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ جرمنی اور پاکستان کے مابین پرانے اور مضبوط تجارتی تعلقات موجود ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے چیمبر اور سفارتخانے دونوں کلیدیکردار ادا کریں۔انہوں نے بتایا کہ میری پاکستان میں تعیناتی کو ابھی صرف پانچ ہفتے ہوئے ہیں اور اسلام آباد سے باہر یہ میرا پہلا دورہ ہے لہٰذا میں آپ سے سیکھنے کیلئے آیا ہوں۔ پاکستان میں نوجوانوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے جرمن حکومت آپ کی مدد کرنا چاہتی ہے۔پاکستان میں بالعموم سیکیورٹی خدشات کی بنا پر سفارت کار اور غیرملکی مہمان سخت سیکیورٹی میں بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں، لیکن جرمن سفیر کے اس طرح پاکستانی ٹرین میں سفر کرنے کو بہت سراہا جارہا ہے ،عام لوگوں کا کہنا ہے کہ جرمن سفیر کے اس اقدام سے پاکستان میں غیرمحفوظ ہونے کا بین الاقوامی تاثر زائل ہوسکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…