اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ملتان میٹروسکینڈل،چینی کمپنی یابیٹ نے کتنے ملین ڈالرز کا دعویٰ کیا،کرپشن نہیں ہوئی تو ایف آئی اے کیا کررہی ہے؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس نے ملتان میٹرو پراجیکٹ کے معاملات پر شفاف تحقیقات نہ کرنے کے معاملات پر ایس ای سی پی کے پانچوں کمشنرز کو طلب کرلیا اب تک ملتان میٹرو پراجیکٹ کی کیوں تحقیقات نہ ہوئیں‘ ایس ای سی پی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کو مطمئن کرنے میں ناکام ۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈیوالہ کی سربراہی میں ہوا۔

اجلاس میں چیئرمین ایس ای سی پی نے بتایا کہ میٹرو پراجیکٹ ملتان میں یابیٹ چائنہ کمپنی کے معاملات کو ایف آئی اے دیکھ رہی ہے جبکہ اس معاملے میں چین سے بھی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یابیٹ نے چائنہ سکیورٹی اینڈ ایکس چینج کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جبکہ اس نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ سینیٹر مشاہد حسین اور سینیٹر کلثوم کے جعلی خطوط بھی اپنے پروفائل میں لگائے۔یابیٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حبیب رفیق کنسٹرکشن کمپنی کی سب کمیٹی کیپیٹل انجینئرنگ سے ملتان میں کنٹریکٹ لیا لیکن اس کے ثبوت نہ مل سکے۔ یابیٹ نے چائنہ ایس ای سی پی کو بتایا کہ اس نے پاکستان میں 32.5 ملین ڈالر کا کنٹریکٹ کیا ہوا ہے۔ اس موقع پر آڈٹ حکام نے آگاہ کیا کہ 2016-17 میں مختلف وزارتوں کے اداروں میں 382 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ملتان میٹرو بس پراجیکٹ میں مبینہ ایک کروڑ 75لاکھ ڈالر کی کرپشن پر رپورٹ مکمل نہ کرنے پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ایس ای سی پی حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی یابیٹ نے چینی ریولیٹر کے سامنے ملتان میٹرو پراجیکٹ 32.5 ملین ڈالر میں لینے کا دعویٰ کیا جس کی تحقیقات ہی نہیں کی گئیں جس پر چین ریگولیٹر نے یابیٹ کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔ ایس ای سی پی حکام نے فنانس کمیٹی کو بتایا کہ یابیٹ کی جانب سے مشاہد حسین ‘ کلثوم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے جعلی لیٹر پیش کئے۔

وزارت خارجہ کے ایک آفیسر نے بھی ایک ایری سیشن لیٹر جاری کیا اب تک کی چینی ادارے کی تحقیقات میں کسی پاکستانی کا کردار ثابت نہیں ہوا۔ ایس ای سی پی حکام کے مطابق انہوں نے اسٹیٹ بنک سے حبیب رفیق کمپنی کا ٹرانزکشن منگوایا ہے جو چینی ریگولیٹر ادارے کو بھجوایا جائے گا تحقیقات مکمل ہونے پر ملتان میٹرو کی تحقیقات کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…