اسلام آباد(آئی این پی)سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ جنرل بیگ سے اچھے تعلقات تھے اور ہیں مگر حکومت کی خاطر ایک بیان دیا جس کے بعد میرے تعلقات خراب ہو گئے، وہی لوگ تنقید کرتے ہیں کہ میں فوج کا آدمی ہوں جن کے پاس تنقید کرنے کیلئے کچھ اور نہیں۔انہوں نے بتایا کہ میں نے کبھی کسی سے لائن نہیں لی۔ا یک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو مجھے صرف دو سال تک نظر بند رکھا گیا ،
میری نظر بندی کے دوران پرویز مشر ف نے مجھ سے ملاقات کیلئے فون کیا جس سے میں نے معذرت کر لی۔ مشرف نے میرے حلقے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ میں الیکشن نہ جیت سکوں ۔ ایان علی کیس سے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ایان علی کا کیس وزارت داخلہ کے پاس نہیں بلکہ وزارت خزانہ کے پاس تھا ۔ وزارت خزانہ کے کہنے پر ایان علی کا نام ای سی ایل میں ڈالا اور نکالا جاتا رہا تھا از خود وزارت داخلہ نے ایان علی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا اسی طرح ڈاکٹر عاصم کیس میں میرا یا میری وزارت کا کوئی کردار نہیں تھا ۔ ڈاکٹر عاصم کا کیس رینجرز کے پاس تھا ۔ انہوں نے کہا کہ حکیم اللہ محسود سے مذاکرات میں فوج اور امریکہ سمیت دیگر دوست ممالک کو اعتماد میں لیا گیا تھا تاکہ ہم پر کوئی قدغن نہ آئے ۔ ڈان لیکس کے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ڈان لیکس پر پرویز رشید کو ہٹانے میں میرا کوئی کردار نہیں ہے ۔ ڈان لیکس پرحکومت کے حق میں صرف میں بولا۔ ڈان لیکس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آرمی نے دی اور وزیر اعظم سیکریٹریٹ کے تحت آئی بی نے تصدیق کی ۔ فوج اور وزیر اعظم کی خواہش تھی کہ ڈان لیکس کی انکوائری میں اور اسحاق ڈار کریں مگر اسحاق ڈار نے ڈان لیکس کی انکوائری میں شامل ہونے سے معذوری ظاہر کر دی اور وہ شامل نہیں ہوئی ۔انھوں نے کہاکہ کسی نے نواز شریف سے کابینہ میں ہونیوالی باتیں لیک کر دیں،
کابینہ میں ہونیوالی باتیں جس نے لیک کی اس نے اپنے انداز میں کی میں نے کچھ اور باتیں بھی کی تھیں، میری کی ہوئی تمام باتیں اگر لیک ہو جاتی تو شاید میری پرسنلٹی بلڈنگ ہوتی۔ اپنی سیاسی اور عام زندگی اسلام کی روش پر چلانے کی کوشش کی ہے۔چوہدیری نثار نے کہاکہ میں تنہائی پسند ہوں،
شادیوں میں نہیں جاتا، میں نے ڈسپلن اور وقت کی پابندی فوج سے سیکھا، فوجی ماحول میں پلنے بڑھنے سے اثر تو ہوتا ہے، میں کنٹونمنٹ بورڈ کے ماحول میں پلا بڑھا، میرا خاندان چار پشتوں سے فوج میں ہے، میرے والد پاک فوج میں اعلی عہدے پر تھے۔



















































