اسلام آباد(آئی این پی)سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ تین چار سال میں نواز شریف سے اختلافات آئے،محسوس کیامجھے جان بوجھ کر مشاورت سے الگ رکھا جا رہا ہے،2013 کے بعد نواز شریف کے چہرے پر متعدد بار ناراضگی دیکھی،فوج کا پانامہ معاملے سے تعلق نہیں ہے نا ہی فوج نے کوئی کردار ادا کیا،
سپریم کورٹ سے محاذآرائی کر کے کوئی سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے ،ابھی وقت ہے کہ محاذ آرائی کو ترک کر کے ملک کو بین الاقوامی خطرات سے بچایا جا سکے ،میری رائے ہے کہ ابھی پانی سر کے قریب ہے،میرے مخالفین کہتے ہیں میں مغرورہوں لیکن میں مغرور نہیں ہوں بلکہ محدود رہتا ہوں ،زیادہ سوشل نہیں ہوں ، دشمنیوں اور دوستیوں کو بہت لمبا نبھاتا ہوں،خاندانی پس منظر فوجی ہونے پر فخرہے،جنرل اسلم بیگ سے آج بھی اچھے تعلقات ہیں ۔ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مجھے فخر ہے میرا خاندان اور مکمل بیک گراؤنڈ فوجی ہے اسی وجہ سے میری سیاست میں اسکی جھلک موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ انا پرست نہیں ہوں بس تھوڑا ریزرو ضرور کہہ سکتے ہیں ، 1985سے میرے حلقے کے عوام مجھ پر اعتماد کرتے آئے ہیں ، نظم وضبط ، اوقات کی پابندی اور وطن سے محبت میں نے فوج سے سیکھی ، زیادہ سوشل نہیں اسلئے مخالفین مجھے مغرور کہتے ہیں مگر میں مغرور نہیں ہوں۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 1985سے لیکر 2013تک نوازشریف کو میری کوئی تنقید گوار نہیں گزری لیکن گزشتہ چار سالوں میں ناگوار گزرنے لگی لگی ، اس دور میں ہمارے درمیان اختلافات آئے میں وفاداری سچ بات کہنے کو سمجھتا ہوں ، دوستی اور دشمنی بھی نبھاتا ہوں۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ مجھے جان بوجھ کر اہم مشاورت سے دوررکھانے لگا،
زیادہ اختلافات پچھلے ادوار میں پالیسی کی وجہ سے آئے اس کا ذکر کابینہ اجلاس میں کیا اور بہت سی چیزوں کا پوسٹ مارٹم کیا ، نوازشریف سے اختلافات کا ذکر میں نے کبھی نہیں کیا۔نوازشریف کے قریب ہونے کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ حالات کو مینج کیا جائے ،لیکن جو راستہ چند لوگوں نے اپنایا ہے وہ غلط ہے ۔انہوں نے کہا کہ فوج کا نوازشریف کو ہٹانے میں کوئی کردار نہیں ہے ،
ابھی بھی وقت ہے کہ محاذ آرائی کو ترک کر کے ملک ک خطرات سے بچایا جائے ، فوج سے محاذآرائی ترک کرنا مسلم لیگ (ن) سے زیادہ نوازشریف کے مفاد میں ہے ، پانی سر تک پہنچ چکا ہے۔



















































