اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بے نظیر بھٹو قتل کیس، تحقیقات کو گمراہ کرنے کے لیے لوگ بیچ میں ڈالے گئے، سینئر صحافی کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 31  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سینئر صحافی و صدر نیشنل پریس کلب اسلام آباد شکیل انجم نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کے جو 5ملزم رہا کئے یہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے ایک ماہ قبل خفیہ ایجنسیوں نے اپنی تحویل میں لے لئے تھے،تحقیقات کو گمراہ کرنے کیلئے ایسے لوگ بیچ میں ڈالے گئے جن کا قتل سے کوئی تعلق نہیں تھا،بے نظیر بھٹو کی شہادت پر اس لئے کتاب لکھی کیونکہ اس قتل کی تحقیقات کو جان بوجھ کر الجھایا گیا،

مشرف صاحب نے اس سانحے کے فوراً بعد ایک میٹنگ بلائی، جس میں تمام ایجنسیز کے سربراہ شامل تھے لیکن جاوید اقبال چیمہ کو شامل نہیں ہونے دیاوہ باہر ہی موجود رہے، اس میٹنگ کے بعد منصوبہ بندی کے ساتھ ایک نیا تنازع پیداکیا گیا کہ بے نظیر کی شہادت گولی سے نہیں گاڑی کا لیور لگنے سے ہوئی۔ وہ جمعرات کو نجی ٹی وی پروگرام میں بے نظیر قتل کیس کے فیصلے پر اپنا تجزیہ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت گاڑی کا لیور لگنے سے ہوئی، گولی لگنے سے ہوئی یا جس وجہ سے بھی ہوئی مگر شہادت تو ہو گئی،مگر یہ تنازع جان بوجھ کر پیدا کیا گیا تا کہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔ شکیل انجم نے کہا کہ میں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت پر اس لئے کتاب لکھی کیونکہ اس قتل کی تحقیقات کو جان بوجھ کر الجھایا گیا،پرویز مشرف جو اس وقت صدر پاکستان تھے انہوں نے اس سانحے کے فوراً بعد ایک میٹنگ بلائی، جس میں تمام ایجنسیز کے سربراہ شامل تھے مگر جاوید صاحب کو شامل نہیں ہونے دیا گیا تھا وہ باہر ہی موجود رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ کے بعد پلاننگ کے ساتھ ایک نیا تنازع پیدا کیاگیا کہ بے نظیر کی شہادت گولی سے نہیں گاڑی کا لیور لگنے سے ہوئی۔ شکیل انکم نے انکشاف کیا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کے جو 5ملزم گزشتہ روز رہا کئے یہ پانچوں بے نظیر کی شہادت سے ایک ماہ قبل خفیہ ایجنسیوں نے اپنی تحویل میں لے لئے تھے،2

لوگوں کو ڈیرہ اسماعیل خان، ایک کو مانسہرہ اور باقی لوگوں کو مختلف علاقوں سے تحویل میں لیا گیا تھا اور انہی کو مرکزی قاتل بنا کر پیش کیا گیا، انہوں نے باقاعدہ طور پر تحقیقات کو گمراہ کرنے کیلئے ایسے لوگ بیچ میں ڈالے گئے جن کا قتل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ندیم اعجاز نے سعود عزیز سے کہا اور سعود عزیز نے ایس ایس پی خرم شہزاد کو حکم دیا کہ کرائم سین دھو دیا جائے،بعد میں کسی کی یقین دہانی پر سعود عزیز نے سارا ملبہ اپنے اوپر لے لیا اور وہاں تحقیقات کا راستہ روک دیا گیا،نہیں تو ممکن ہے بات آگے چلتی تو کسی نہ کسی طرح اصلی مجرم تک پہنچ جاتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…