اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کے الزامات کے بعد صورتحال تبدیل،چین اور روس پاکستان کی حمایت میں کھڑے ہوگئے،وزیردفاع کا اہم اعلان

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد( آن لائن) چین نے افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی کی حمایت کا اعلان کر دیا، چین نمائندہ خصوصی ڈینگ ژی جن کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، عالمی برادری دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرے، پاکستان اور چین نے خطے کے3پڑوسی ممالک کے مذاکرات پر بھی اتفاق کیا،

دفترخارجہ کے ترجمان کے مطابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے چین کے نمائندہ خصوصی ڈینگ ژی جن نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پاکستان اور افغانستان بارے امریکہ کی نئی پالیسی خطے کی صورتحال، پاک چین دوطرفہ تعلقات اور دیگر اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر چینی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ افغان میں قیام امن کیلئے فوجی آپریشن کوئی حل نہیں، افغانستان میں دیریا امن کے قیام کیلئے مذاکرات کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ چین دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتا ہے عالمی برادری بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاک چین کوششوں کی ضرورت پر زور دیا دونوں ممالک نے افغانستان میں مفاہمتی عمل کیلئے کوششیں تیز کرنے اور3پڑوسی ممالک میں بامقصد مذاکرات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔دریں اثناء وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان پر انگلی اٹھانا بند کرے‘ افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جاسکتی‘ ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات اب بھی اچھے رکھنا چاہتے ہیں لیکن خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات زیادہ بہتر بنائیں گے۔ پر امن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے‘ بھارت خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے‘ امریکہ چین کے خلاف بھارت کو سامنے لانے کی کوشش میں ہے۔

پاکستان میں دہشت گردوں کا اب کوئی نیٹ ورک نہیں ہے‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کے بعد خطے کے دو اہم ممالک چین اور روس نے پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ پیر کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ افغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جائے گی افغان جنگ سے پاکستان بھی غیر مستحکم ہوا ہے۔ سلالہ واقعے کے بعد پاک فوج زیادہ مستحکم ہوئی ہے

انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات اچھے رکھیں ‘ امریکہ کی پانی اسٹریٹیجی ہے‘ پاکستان کو امریکہ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ کے پاس کوئی خاص پالیسی میکر نہیں ہے پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لے گا۔ پاکستان نے روس کے ساتھ مل کر فوجی مشقیں کیں ہیں‘ ہم نے دنیا کو بتایا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی امداد کے بغیر لڑ سکتا ہے۔

آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد اس کی مثالیں ہیں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے پاکستان کے خلاف بیان کے بعد چین او رروس نے پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ امریکہ کو ماضی میں ویتنام کی جنگ میں شکست ہوئی اور اب امریکہ افغانستان میں شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں ہمارے روس کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت کا عمل بند نہیں کریں گے۔

ہم امریکہ کے ساتھ بھی مزاکرات کا دروازہ بند نہیں کریں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ 2014 ء سے پہلے کوئی ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار نہیں تھا۔ نواز شریف کی حکومت نے سی پیک کو آگے برھایا اور دوست ملک چین نے بھاری سرمایہ اکری کی ‘ ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں لیکن افغان جنگ پاکستان میں لڑنا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مترادف ہے ہم چاہتے ہیں کہ افغان عوام خود اپنا ملک چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کے دروازے کھلے رکھیں گے۔

ہم چین ‘ روس اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنائیں گے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نہایت بہتر جب سے مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے ہیں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت خطے مین امن نہیں قائم ہونے دے رہا ۔ امریکہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ خرم دستگیر نے کہا کہ ہم نے دہست گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں۔ ستر ہزار کے قریب شہادتیں ہوئی ہیں۔ افسران سمیت چھ ہزار فوجی جوان شہید ہوئے ہیں‘

پچاس ہزار کے قریب لوگ زخمی یا معذور ہوئے ہیں۔ دنیا کو پاکستان کی قربانیاں تسلیم کرنا ہوں گی پاکستان میں دہست گردوں کی اب کوئی نہ پناہ گاہ ہے اور نہ کوئی منظم نیٹ ورک ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2013 ء کے بعد پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری آئی‘ 2013 ء کے بعد ہی چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی سی پیک گوادر سے آگے بڑھا سی پیک سے پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ نااہلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف چپ چاپ گھر چلے گئے عدلیہ کے فیصلوں پر تحفظات ہیں لیکن فیصلے پر عمل درامد کردیا ہے منتخب وزیراعظم کو سسلئین مافیا اور گارڈ فادر کہنے والوں کو بھی عہدے چھوڑنے چاہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مستحکم دفاع کیلئے مستحکم جمہوریت ناگزیر ہے اس کے لئے سیاستدانوں کو اختلافات ایک طرف رکھ کر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ (عابد شاہ)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…