اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے بڑے سیاسی پہلوانوں کو پچھاڑنے والے عمران خان کو ایک مچھر نے منہ دکھانے کے لائق نہ چھوڑا

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

پشاور /ایبٹ آباد (این این آئی)خیبر پختونخوا میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 ہزار تک پہنچ گئی ہے ٗ اس وقت 400 سے زائد مریض صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ڈینگی رسپانس یونٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ڈینگی رسپانس یونٹ کے مطابق31نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی

تعداد 2994 ہوگئی ۔ڈینگی رسپانس یونٹ کے مطابق ڈینگی بخار میں مبتلا 443 مریض اس وقت صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ادھر ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ڈینگی وارڈ میںزیرعلاج ڈینگی وائرس سے متاثرہ خاتون سمیت2افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔جاں بحق ہونے والے دونوں مریضوں کا تعلق ضلع ہری پور سے ہے ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی میڈیا منیجرامبر جاوید کے مطابق ہسپتال کے ڈینگی وارڈ میں اس وقت 6مریض زیرعلاج ہیں ٗڈینگی وائرس سے متاثرہ ہری پور کی رہائشی خاتون ثمینہ اورجمیل جاں بحق ہوئے ٗڈینگی وارڈ میں مریضوں کو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تاہم اس حوالہ سے مریضوں کے لواحقین نے بتایا کہ وارڈ میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کو ہسپتال میں خاطر خواہ سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیںجس کے باعث وائرس سے متاثرہ مریضوں کی حالت مزید بگڑرہی ہے۔مریضوں کے لواحقین نے صوبائی محکمہ صحت کے ذمہ داروں سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر ڈینگی مرض بے قابو ہو کر سینٹرل جیل پشاور پہنچ گیا ٗ سینٹرل جیل میں اب تک 7 قیدیوں میں ڈینگی کی علامات ظاہر ہونے لگیں ۔جیل میں طبی سہولیات کے فقدان کے باعث تاحال قیدیوں کا تشخیصی ٹیسٹ نہ کرایا جاسکا۔جیل ذرائع کے مطابق پشاور میں پھیلتی ڈینگی کی وبا کے پیش نظر جیل میں ڈینگی اسپرے تاحال نہیں کیا گیادوسری جانب ڈپٹی کمشنر ثاقب کا کہنا ہے کہ مرحلہ واراسپرے کیا جارہا ہے جیل کی باری ابھی نہیں آئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…