ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی حکومت کے اعلی ترین چیوننگ سکالر شپ پروگرام میں شمولیت کیلئے پاکستانیوں سے درخواستیں طلب،تفصیلات جاری

datetime 8  اگست‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)برطانوی حکومت کی جانب سے دنیا کی بہترین برطانوی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے چیوننگ اسکالر شپ کے ذریعے مکمل مالی تعاون کے لیے پاکستان سے درخواستیں 2018 / 19کے تعلیمی سال کے لیے وصول کی جارہی ہیں۔چیوننگ اسکالر شپ بہترین تعلیمی پس منظر رکھنے کے ساتھ ساتھ قیادت کا قابلِ ذکر مظاہرہ کرنے والے افراد کو اعزاز کی جاتی ہے۔

یہ اسکالر شپ کسی بھی برطانوی یونیورسٹی میں ماسٹرز ڈگری کی تعلیم کے لیے مکمل مالی اعانت کے ساتھ ساتھ وسیع تعداد میں تعلیمی، پیشہ ورانہ اور ثقافتی تقریبوں میں شرکت کا موقع فراہم کرتی ہے۔چیوننگ اسکالر شپ کے خواہشمند امید واروں سے درخواستیں 7 اگست سے 7نومبر 2017تک www.chevening.org/applyپر وصول کی جائیں گی۔اس ضمن میں پاکستان کے لیے قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر مسٹر رچرڈ کراؤڈر نے کہاکہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں، لائق طلبا اور سب سے زیادہ قابلِ قدر اساتذہ برطانیہ میں ہیں۔ ہمارے اعلی تعلیم کے شعبے میں معلومات اور خیالات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ علم میں اضافہ اور تعلقات کی تعمیر ہوتی ہے۔ برطانیہ میں گذارے گئے وقت کے باعث چیوننگ اسکالرز اپنے آپ کو اس دنیا کا حصہ محسوس کرتے ہیں اور تعلیمی، پیشہ ورانہ اور ذاتی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ابھرتے ہیں۔مختلف ممالک سے آنے والے باصلاحیت چیوننگ اسکالرز آپس میں اپنی بہترین صلاحیتوں اور معلومات کا تبادلہ کرکے اپنے وطن واپسی پر برطانیہ میں قیام کے دوران حاصل کردہ اعلی ترین معلومات اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان تعلقات کی تعمیر میں چیوننگ اسکالرز اور چیوننگ المنائی کا کردار ہمیشہ اہم ترین رہا ہے۔پچھلے 34 برسوں کے دوران 1500 سے زائد پاکستانی اسکالرز چیوننگ اسکالر شپ کے لیے منتخب ہوچکے ہیں۔

یہ اسکالرز اپنے وطن میں وسیع تر شعبوں میں قابلِ احترام رہنما بن گئے۔ چیوننگ نیٹ ورک کا حصہ بننا فخر اور ذمہ داری کا ایک مضبوط احساس ہے۔ میں نے ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے کہ یہ موقع انسانی زندگیوں میں کیسی کامیاب تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔برطانوی تعلیمی سال 2018 / 2019 کیلیے دنیا بھر میں 1500 سے زائد اسکالر شپ پیش کی جارہی ہیں۔

یہ برطانوی حکومت کی جانب سے مستقبل کے رہنماؤں کی تربیت کی جانب نمایاں سرمایہ کاری ہے۔موجودہ تعلیمی سال کے دوران برطانوی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے لیے پاکستان سے 67 اسکالرز منتخب ہوئے تھے۔ پچھلے تعلیمی سال کے کئی کامیاب درخواست گذاروں نے ہیش ٹیگ #ChosenForChevening کے ذریعے ٹویٹر پر اور انسٹاگرام پر اپنے تجربات کے بارے میں تحریر کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…