بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

ججز پانامہ کیس کافیصلہ لکھنے میں مصروف اور نواز شریف ماسٹر سٹروک کھیل گئے،پانامہ کا ہنگامہ ہی ٹھنڈا کر دیا

datetime 24  جولائی  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں پانامہ جے آئی ٹی کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ پانامہ کیس کا فیصلہ لکھنے میں مصروف ہے تو اسی دوران وزیراعظم نواز شریف اور ان کی فیملی نے آخری مراحلہ میں اپنے اہم کارڈ استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اہم کاغذات سپریم کورٹ میں جمع کرا دئیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اقامہ دستاویزکا

عدالت میں پیش ہونا کیس کا ٹرننگ پوائنٹ ہو سکتا ہے ۔ اقامہ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی تصدیق شدہ دستاویز نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ہفتہ کو وکلا کی بحث مکمل ہونے کے بعد عدالت میں جمع کرائی تھی ۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہونے کے بعد شریف خاندان اور ان کے وکلا نے پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت اس بات کا انتظارکیا کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کے کس نکتے پر سب سے زیادہ توجہ اور وضاحت طلب کرتی ہے تاکہ اسی نکتے بارے حکمت عملی طے کی جائے اور جب عدالت نے بار بار اقامہ اور نواز شریف کی ایف زیڈ ای کمپنی میں ملازمت کے حوالے سے وضاحت طلب کی تو الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے تصدیق شدہ دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہیں جو کہ شریف خاندان کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ جس نکتے پر سب سے زیادہ سوال اٹھیں گے اس کا ہی جواب دیا جائے گا۔قانونی ماہرین کے مطابق رجسٹرار کے ذریعے دستاویز عدالت میں کسی وقت بھی جمع کرائی جا سکتی ہے جس کے بعد کسی بھی فریق کی جانب سے پیش کی گئی دستاویز یا ثبوت کو فیصلے کا حصہ بنا لیا جاتاہے اورفیصلہ محفوظ ہونے کے بعد دوبارہ کسی دستاویز یا ثبوت پر بحث کم ہی ہوتی ہے اس طرح اب جمع کرائی گئی دستاویز پر مخالف فریق کے وکلاکو سوال اٹھانے کا موقع نہ ملنے کا قوی امکان ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…