جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی،پیپلزپارٹی نے اچانک سرپرائز دیدیا،تحریک انصاف کے رہنما ششدر

datetime 23  جولائی  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آن لائن) پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی جاانب سے وزیر اعظم نوازشریف کی ممکنہ نااہلی کے فیصلے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان پیپلز پارٹی سے راہیں جدا کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے ،جبکہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کے حوالے سے قرار داد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرانے سے متعلق سابق صدر و شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے ہدایت پر اپوز یشن لیڈر خورشید شاہ نے اسکی مخالفت کردی ہے ،

عمران خان پی پی پی کے رویے پر دلبرداشتہ ہیں، شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو حقائق سے آگاہ کردیا اور بتایا ہے کہ پی پی پی اور ن لیگ میثاق جمہوریت اور قومی مفاہمت کے تحت تاحال مک مکا کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے 98 ممبران اسمبلی کے دستخطوں سے تیار ہونے والی ریکوزیشن تاحال اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی نے مستقبل کی حکمت عملی کیلئے جلد پارٹی عہدیداروں کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع نے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے عمران خان سے ایک اہم ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اسمبلی میں ریکوزیشن جمع کرانے پر شدید مخالفت کررہی ہے9 روز قبل متحدہ اپوزیشن کے 98 ممبران اسمبلی نے مشترکہ طور پر اس قرار داد پر دستخط کئے گئے جس میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جانا تھا۔ ریکوزیشن پر بلائے جانے والے اس اجلاس میں اپوزیشن جماعت کا یک نکاتی ایجنڈا تھا جس کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی جانے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ تھا۔ تاہم پیپلزپارٹی نے اس ریکوزیشن کی مخالفت کی ۔ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو یہ بھی بتایا کہ پیپلزپارٹی پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے حکم پر ریکوزیشن پر اجلاس نہیں بلانا چاہتی۔ یہ بھ معلوم ہوا ہے کہ ریکوزیشن پر اجلاس نہ بلانے پر اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کے اس اقدام کے بعد پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ممکنہ نااہلی کے فیصلہ کے بعد پیپلزپارٹی سے راہیں جدا کرلی جائیں گی۔قومی اسمبلی میں سپیکر ایاز صادق کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ متحدہ اپوزیشن کے 98 ممبران اسمبلی کی جانب سے تیار کی جانیوالی ریکوزیشن تاحال اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول نہیں ہوئی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…