جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی،پیپلزپارٹی نے اچانک سرپرائز دیدیا،تحریک انصاف کے رہنما ششدر

datetime 23  جولائی  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی جاانب سے وزیر اعظم نوازشریف کی ممکنہ نااہلی کے فیصلے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان پیپلز پارٹی سے راہیں جدا کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے ،جبکہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کے حوالے سے قرار داد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرانے سے متعلق سابق صدر و شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے ہدایت پر اپوز یشن لیڈر خورشید شاہ نے اسکی مخالفت کردی ہے ،

عمران خان پی پی پی کے رویے پر دلبرداشتہ ہیں، شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو حقائق سے آگاہ کردیا اور بتایا ہے کہ پی پی پی اور ن لیگ میثاق جمہوریت اور قومی مفاہمت کے تحت تاحال مک مکا کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے 98 ممبران اسمبلی کے دستخطوں سے تیار ہونے والی ریکوزیشن تاحال اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی نے مستقبل کی حکمت عملی کیلئے جلد پارٹی عہدیداروں کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع نے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے عمران خان سے ایک اہم ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اسمبلی میں ریکوزیشن جمع کرانے پر شدید مخالفت کررہی ہے9 روز قبل متحدہ اپوزیشن کے 98 ممبران اسمبلی نے مشترکہ طور پر اس قرار داد پر دستخط کئے گئے جس میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جانا تھا۔ ریکوزیشن پر بلائے جانے والے اس اجلاس میں اپوزیشن جماعت کا یک نکاتی ایجنڈا تھا جس کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی جانے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ تھا۔ تاہم پیپلزپارٹی نے اس ریکوزیشن کی مخالفت کی ۔ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو یہ بھی بتایا کہ پیپلزپارٹی پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے حکم پر ریکوزیشن پر اجلاس نہیں بلانا چاہتی۔ یہ بھ معلوم ہوا ہے کہ ریکوزیشن پر اجلاس نہ بلانے پر اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کے اس اقدام کے بعد پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ممکنہ نااہلی کے فیصلہ کے بعد پیپلزپارٹی سے راہیں جدا کرلی جائیں گی۔قومی اسمبلی میں سپیکر ایاز صادق کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ متحدہ اپوزیشن کے 98 ممبران اسمبلی کی جانب سے تیار کی جانیوالی ریکوزیشن تاحال اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول نہیں ہوئی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…