جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

معروف صحافی حامد میر کا جیو کو خیر آباد کہنے کا فیصلہ،نجی ٹی وی اینکر کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 18  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آنے والے چند دنوں میں معروف صحافی، کالم نگار و تجزیہ نگارحامد میر جیو نیوز چھوڑ رہے ہیں، نجی ٹی وی روز نیوز کے ایک پروگرام کے دوران اینکر کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی روز نیوز کے ایک پروگرام میں اینکر نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں حامد میر جیو نیوز کوممکنہ طور پر خیر آباد کہہ دیں گے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اینکر کا کہنا تھا کہ حامد میر نے اپنے کالم میں بھی اس طرح اشارہ کیا ہے کہ کیسے انہیں پانامہ کیس کے حوالے سے حکومتی وزرا کی جانب سے پریشرائز کیا گیا ۔ اینکر کا کہنا تھا کہ اپنے کالم میں حامد نے لکھا ہے کہ جب پانامہ کیس شروع ہوا تو میں نے اس حوالے سے سوالات اٹھانا شروع کئے تو حکومتی وزرا کی جانب سے پہلے مرحلے میں مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ناراض ہیں پھر اس کے بعد پریشر ڈالا گیا ، اپنے کالم میں حامدمیر نے نہ صرف حکومت بلکہ اپنوں سے بھی گلہ کیا ہے۔ اینکر نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حامد میر نے اس بات کا بہرحال کھل کر اظہار تو نہیں کیا مگر جیو کی انتظامیہ اور مالک میر شکیل الرحمن کی جانب سے بھی حامد میر کو یہی ہدایات دی گئی تھیں کہ پانامہ کیس کے حوالے سے آپ وہی موقف رکھیں جو کہ حکومتی موقف ہے۔ اپنے کالم میں حامدمیر نے نہ صرف حکومت بلکہ اپنوں سے بھی گلہ کیا ہے۔ اینکر نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حامد میر نے اس بات کا بہرحال کھل کر اظہار تو نہیں کیا مگر جیو کی انتظامیہ اور مالک میر شکیل الرحمن کی جانب سے بھی حامد میر کو یہی ہدایات دی گئی تھیں کہ پانامہ کیس کے حوالے سے آپ وہی موقف رکھیں جو کہ حکومتی موقف ہے۔نجی ٹی وی روز نیوز کے اینکر نے اس حوالے سے مزید کیا کہا۔۔ویڈیو ملاحظہ کریں!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…