جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

آپ بیان دینے کیلئے پاکستان آجائیں اور بدلے میں ہم سے 200ارب کی یہ چیز لے لیں ؟ سینئر صحافی کا دھماکہ خیز انکشاف ‎

datetime 15  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قطری شہزادے نے شریف خاندان کیلئے سپریم کورٹ کو خط ویسے ہی نہیں لکھ دیا بلکہ حکومت نے ایل این جی معاہدے میں قطری شہزادے حماد بن جاسم کو 2سو ارب روپے سے نوازا، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بدولت ملک پر قرضوں میں 35فیصد اضافہ ہو چکا، معروف صحافی و کالم نگار آفتاب اقبال کا نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و کالم نگار آفتاب اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے قطری شہزادے کو ایل این جی معاہدے میں دو سو ارب روپے سے نوازا ۔ قطری شہزادے حماد بن جاسم کی جانب سے پانامہ کیس میں شریف خاندان کو مدد فراہم کرنے کیلئے جو خطوط لکھے گئے وہ ایسے ہی نہیں تھے بلکہ اس کے پیچھے قطر کے ساتھ پاکستان کے ایل این جی معاہدے کے ذریعے 200ارب روپے کا فائدہ پہنچانا تھایہی نہیں آئندہ پانچ سالوں کے دوران اس معاہدے کی وجہ سے قوم کو مزید 5 ارب ڈالر کا ٹیکہ بھی لگایا جائے گا۔ آفتاب اقبال نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ چار سال کے دوران ملکی برآمدات میں 4ارب ڈالر کی کمی آئی اور 50لاکھ سے زائد افراد بیروزگار ہوئے۔ وفاقی وزیر خزانہ سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی بدولت ملک 24کھرب روپے کے قرضے میں ڈوب چکا ہے ۔ آفتاب اقبال نے وفاقی و پنجاب حکومت کے سربراہان شریف برادران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سستی روٹی سکیم میں اپنی واہ واہ کروانے کیلئے یہ لوگوں کو مہنگی ترین کورئیر سروسز کے ذریعے آٹے کی پوری پوری بوریاں بھجواتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شریف برادران صرف ایسے منصوبے پر توجہ دیتے ہیں جو منصوبہ لوگوں کو نظر آئیں تاکہ ان کی بدولت انہیں

الیکشن میں ووٹ حاصل ہو سکیں۔آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ کرپشن کی تردید کرنے والے شریف برادران کے کرپشن کے بہت زیادہ اسکینڈلز موجود ہیں جن میں سے ایک آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم بھی ہے۔ آشیانہ سکیم پر اس حکومت کو اولمپک گولڈ میڈل ملنا چاہئیے ، لاہور میں شروع کئے گئے اورنج لائن ٹرین منصوبے پر بھئی بڑے بڑے کک بیکس لیے گئے۔ ان کے دیگر فلاپ منصوبوں میں پیلی ٹیکسی، لیپ ٹاپ اسکینڈل، موٹروے اور کو آپریٹو سکینڈل میں بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کا معاشی قتل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…