جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

مسلم لیگ (ق) نے تحریک انصاف کی وکٹ گرا دی

datetime 13  جولائی  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ( آن لائن) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی سے تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر چودھری محمد یاسر گجر نے ملاقات کی اور چودھری شجاعت حسین اور پرویزالٰہی کی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔

اس موقع پر چودھری ظہیرالدین، محمد بشارت راجہ، میاں منیر، ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی اور شاداب جعفری بھی موجود تھے جبکہ شمولیت اختیار کرنے والے وفد میں سابق چیئرمین چودھری اسلم گجر، چودھری آصف گجر، چودھری کاشف گجر، محمد ارشد، احمد رضا سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے پارٹی میں شامل ہونے والے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاست کا محور شروع سے ہی عام آدمی غریب آدمی رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج تک لوگوں کے دلوں میں ہمارے دور کی یاد زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس جس جس ملک میں آیا وہاں کے وزیروں مشیروں کو بہا کر لے گیا مگر نوازشریف نہ جانے کیا چاہتے ہیں، اس بار انہیں سیاسی شہید نہیں بننے دیا جائے گا، جے آئی ٹی نے وہ کام کیا جو شاید اور کوئی نہ کر پاتا، تحقیقات کے دوران نوازشریف کی اپنی آف شور کمپنی نکل آئی جس پر انہوں نے اقامہ بھی لے رکھا تھا، حکمرانوں کی کرپشن اب پوری دنیا کے سامنے کھل کر عیاں ہو چکی ہے، پورے کا پورا خاندان شہباز شریف سمیت کرپشن کی زدمیں ہے اور پاکستان کے غریب عوام کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی تمام جعلی سکیموں کا پول بھی جلد کھل جائے گا، لاہور کی دو کروڑ آبادی کو نظرانداز کر کے ایک لاکھ افراد کیلئے جنگلہ بس بنا دی گئی کیا پورے لاہور کا یہی ایک مسئلہ ہے۔

چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں 1122 سروس ، مفت تعلیم، ایمرجنسی میں مفت دوائیاں، غریبوں کے گھروں پر ٹیکس معاف ، ساڑھے بارہ ایکڑ پر کسانوں کو ٹیکس معاف کیا، سستی کھاد فراہم کی جبکہ شہبازشریف 23 سالوں میں کوئی ایسا منصوبہ نہیں بناسکے، اگر ہمیں دوبارہ موقع ملا تو ہم واپس آ کر وہیں سے کام شروع کریں گے جہاں رک گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار حکمرانوں کو چیلنج کیا ہے کہ آؤ اپنے اور میرے 5سالہ دور کا موازنہ کر لو ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ حقائق کا سامنا کر سکیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…