جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

غلطیاں ہو جاتی ہیں مگر ’’جنگ‘‘ نے جے آئی ٹی جھوٹی خبر پر معافی بارے کیا کچھ کہہ دیا؟

datetime 12  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) موقر قومی روزنامہ ’’جنگ‘‘ نے جے آئی ٹی کے حوالے سےاحمد نوارنی کی شائع کردہ ایک رپورٹ پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں مورخہ 10؍جولائی کو احمد نورانی کی خبر ’’جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو نہیں ان کے بیٹوں کو قصوروار پایا‘‘ جزوی طور پر غلط شائع ہوئی۔

اس حوالے سے قارئین کے علم میں لانا ضروری ہے کہ جنگ گروپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ عوام کو منفرد خبریں سب سے پہلے فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جنگ گروپ کے رپورٹرز کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ پاناماپیپرز کے انکشاف سےلیکر اور جے آئی ٹی سے منسلک ہر مسئلہ پر عوام کو ہر زوایہ سے باخبر رکھا جس پر ادارے کو اپنی ٹیم کے تمام ارکان پر فخر ہے ۔ہر خبر اپنے اندر مختلف زاویے رکھتی ہے ، کوئی ایک خبر کسی ایک فریق کیلئے قابل قبول ہوتی ہے مگر دوسرا فریق اسے اپنے خلاف سمجھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ناگوار گزرنے والی خبر پر وہ اکثر یہ الزام عائد کر دیتا ہے کہ اسے دوسرے فریق کو فائدہ پہنچانے کیلئے شائع کیا گیا ہے۔جنگ گروپ کی رپورٹنگ ٹیم کی تاریخ منفرد نوعیت کی خبروں سے بھری پڑی ہے ۔ اسی طرح پانامہ اور جے آئی ٹی جیسے حساس ایشو پر بھی اس ٹیم نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے عوام کو ہر طرح کی معلومات سے باخبر رکھا اور کسی ایک خبر کی بھی تردید نہیں ہوئی۔مذکورہ خبر کی اشاعت سے قبل ادارتی ٹیم نے متعلقہ رپورٹر سے اس خبر کی صداقت کے حوالے سے ضروری چھان پھٹک کی اور رپورٹر کے جوابات کو اطمینان بخش پایا اور یوں رپورٹر کے بہترین ریکارڈ کے تناظر میں یہ خبر شائع کر دی گئی۔صرف صحافت ہی نہیں بلکہ کسی بھی دوسرے معزز ادارے میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہونے کے باوجود غلطی کا امکان رہ جاتا ہے

پاکستان میں عموماً اپنی غلطیاں تسلیم نہ کرنے کی روایت پائی جاتی ہے مگر جنگ گروپ جس طرح اپنی صحیح خبر کا بھرپور دفاع کرتا ہے اسی طرح اس کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرکے قارئین کو آگاہ کر دے۔ اس روایت پر عمل کرتے ہوئے ادارہ اس خبر کی اشاعت پر غیر مشروط طورپر معذرت خواہ ہے ‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…