جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

جے آئی ٹی کے ارکان کی جاسوسی کرنے والا کون نکلا؟ تہلکہ خیز انکشافات، بڑا اعتراف کر لیا گیا!!

datetime 18  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جے آئی ٹی نے اپنی درخواست میں مختلف وفاقی اداروں پر تحقیقاتی عمل میں رکاوٹیں ڈالنے اور جے آئی ٹی اراکین کی جاسوسی کا الزام لگایا تھا۔ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے کوائف اکٹھا کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ’آئی بی قومی اہمیت کے ہر معاملے کی معلومات اکھٹی کرتی ہے اور سرکاری اعلی عہدوں پر تعینات سرکاری ملازمین کا ڈیٹا اکھٹا کرنا اور معلومات حاصل کرنا آئی بی کا معمول کا کام ہے‘۔

ڈی جی آئی بی کے مطابق پانامہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کے ملکی معاملات پر گہرے اثرات ہوں گے اس لیے جے آئی ٹی ارکان کے کوائف جمع کیے گئے۔جے آئی ٹی کے رکن بلال رسول اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے سے متعلق الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلا ل رسول اور ان کے اہل خانہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے کا بھی الزام غلط ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ آئی بی نے جے آئی ٹی میں شامل کسی بھی رکن کو نہ ہراساں کیا اور نہ ہی ان کی نجی زندگی میں مداخلت کی گئی۔آفتاب سلطان نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی ارکان کے حوالے سے معلومات جمع کرنے کے عمل کا افشاں ہونا قابل تشویش ناک بات ہے۔اد رہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی نے جے آئی ٹی کو درپیش مشکلات سے متعلق جواب گذشتہ روز (16 جون) سپریم کورٹ میں جمع کرایا تھا جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، قومی احتساب بیورہو (نیب)، وزارت قانون، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور وزیراعظم ہاؤس نے جے آئی ٹی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔واضح رہے کہ رواں ہفتے سپریم کورٹ میں پاناما لیکس عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ متعدد حکومتی ادارے پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے ‘شواہد اکھٹا کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔

جے آئی ٹی نے الزام لگایا تھا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) ریکارڈز کی حوالگی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں جبکہ یہ تمام ادارے متعلقہ دستاویزات میں جعلسازی اور چھیڑ چھاڑ کے بھی مرتکب ہیں۔جس پر عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کو جے آئی ٹی کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…