جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

لیپ ٹاپ تو دیدیا چارج کہاں سے کریں؟لوڈ شیڈنگ کی ستائی پاکستانی طالبہ قوم کی آواز بن گئی، وزیراعظم کوکیا خط لکھ ڈالا

datetime 15  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لوـڈ شیڈنگ کی ستائی پاکستانی طالبہ پوری قوم کی آواز بن گئی، وزیراعظم نواز شریف کو خط لکھ ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والی پاکستانی طالبہ ماہا عادل نے وزیراعظم نواز شریف کولوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر ایسا خط لکھ ڈالا جو پوری قوم کی آواز بن گیا ہے۔ ماہا عادل نے سوشل میڈیا پر لکھے گئے اپنے خط میں

وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اُمید ہے کہ آپ اپنے خوبصورت اور پُر آسائش کمرے میں ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا میں خوب پُر سکون نیند کے مزے لے رہےہوں گے اور میں اُمید کرتی ہوں کہ آپ اپنی ساری زندگی ایک فرشتے کی طرح پرسکون سوتے رہیں ۔ ماہا لکھتی ہے کہ یہاں رات کے دو بج رہے ہیں اور میں اپنے موبائل کی ٹارچ کی روشنی میں بالکونی میں بیٹھی پڑھ رہی ہوں۔ماہا نے وزیراعظم پر طنز کے نشتر چلاتے ہوئے لکھا ہے کہ ہونا تو یہ چاہئے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مجھے اپنا جنریٹر آن کر لینا چاہئیے؟ آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے ہمیں مُفت پٹرول، جنریٹرز اور یو پی ایس فراہم کئےاور اپنے چار سالہ دور اقتدار میںعوام کےساتھ جس ہمدردی کا بہترین مظاہرہ کیا اس بات پر میں آپ کو سیلوٹ کرنا چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ ان دنوں آپ مستقبل میں ہم سب سے لوٹی جانے والی رقم گن رہے ہوں گے۔مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ چین جا کر آرام کرنا کتنا مشکل ہے لیکن میں آپ کو یہ بتا دوں کہ یہ سب پاکستان کے بچوں کی تعلیم سے بڑھ کر اہم نہیں ہو سکتا۔ماہا نے وزیر اعظم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ میں بس آپ سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر میں کل اپنے امتحان میں فیل ہو گئی تو میں آپ سے آپ کی اس یونیورسٹی میں داخلہ مانگوں گی جو آپ نے آج تک نہیں بنائی۔ اور میں آپ سے روز محشر اس بارے میں سوال کروں گی۔ خط کے آخر میں ماہا عادل نے پاکستان زندہ باد لکھتے ہوئے مزید کہا کہ اگر یہ ملک آپ کی زیر نگرانی رہا تو مجھے اس کے آباد ہونے پر بھی شک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…