جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سوالوں کے جواب نہیں مگر ۔۔۔!حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیشی پر کیا کرتے رہے؟معروف صحافی نے بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 13  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاناماکیس کی جے آئی ٹی نے اپنے اوپر عائد الزامات پر گیارہ صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے۔ میڈیا پر اس رپورٹ کے صرف دو صفحات دکھائے گئے ۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے معروف صحافی رئوف کلاسرانے کہاکہ جے آئی ٹی پرکچھ لوگ اعتراض اٹھارہے ہیں۔رئوف کلاسرانے کہاکہ سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی نے بہت اہم اورواضح جواب جمع کرادیاہے

جس سے معلوم ہوتاہے کہ جے آئی ٹی میں اچھے اورایماندارلوگ شامل ہیں ،انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کانتیجہ کیاہوگااس کابعدمیں ذکرہوگا،یہ ثابت ہوگیاہے کہ جے آئی ٹی میں پروفیشنل لوگ ہیں ۔ جنہوں نے بغیر غصے یا دباؤ میں آئے اپنا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ملزمان کا ٹرائل کرنے کی بجائے جے آئی ٹی کا ٹرائل کر رہا ہے۔ان پرٹاک شوزاورکالم لکھے جارہے ہیں ۔رئوف کلاسرانے کہاکہ حسین نواز کئی بار جے آئی ٹی کے سامنے پیشی پر ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔حسین نوازنے پہلے 28مئی کو پیش ہو کر کہا کہ میرے پاس کوئی ریکارڈ یا دستاویزات نہیں ہیں۔ اگلے دن پھر ان کو بلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ میرا کیس نہیں سن سکتے میں نے آپ کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی ہے۔تیسری پیشہ پرحسین نوازنے ہرسوال کے جواب میں نوکمنٹس کہا۔انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی نے صاف صاف بتایا کہ حسین نواز نے پانچ یا چھ پیشیاں خود لی ہیں۔ جے آئی ٹی کے ممبران کو ڈس کریڈٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کی ویڈیو ٹیپ کی جا رہی ہے۔رئوف کلاسرانے کہاکہ ۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ اداروں میں ریکارڈ کو تبدیل کیا جا رہا ہے صدر نیشنل بنک سعید احمد نے بھی بے ہودہ قسم کا خط لکھا ہے ۔ تصویر لیکیج پر جے آئی ٹی نے کہا کہ تصویر انوسٹی گیشن کی ہے۔

اور تصویر لیک کرنے والے کو 12 گھنٹے کے اندر اندر پکڑ کر متعلقہ ادارے کوتحقیقات کی ہدایت کر دی ۔انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنا جواب خوبصورت طریقے سے پیش کیا جس سے حکمران ٹولہ پریشان ہے۔ اس پروگرام میں رؤوف کلاسرا نے میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ میڈیا ٹرائل کے باوجود جے آئی ٹی دباؤ میں نہیں آئی اورنہ آئے گی ۔ رئوف کلاسرانے کہاکہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجدضیاایک ایمانداراعلی افسرہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…