جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم نوازشریف 15جون کوجے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے ،یہ سب کس کی کوششوں کانتیجہ ہے ؟سپریم کورٹ جے آئی ٹی کے الزام پر کون ساحکم جاری کرسکتی ہے ،جاوید چوہدری کاچونکادینے والاتجزیہ

datetime 12  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(جاوید چوہدری )پاکستان جس دن معرض وجود میں آیا پاکستانی قوم اس دن سے ایک ایسےملک کا راستہ دیکھ رہی ہے جس میں قانون اور قانون نافذ کرنے والےاداروں کی نظر میں وزیراعظم اور عام شخص برابر ہو‘ جس میں سائیکل چور اور خزانہ چور دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو‘ یوں محسوس ہوتا ہے وہ پاکستان اب زیادہ دور نہیں ہے‘ 15 جون کو وزیراعظم خود چل کراس جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے

جو سپریم کورٹ نے شریف فیملی کے خلاف تشکیل دی‘ وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا فیصلہ کر کے بڑے دل کا مظاہرہ کیا‘ ہم اس بڑے دل پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں‘ وزیراعظم کے پیش ہونے سے ملک میں ایک نئی مثال قائم ہو گی‘ اوراس کے بعد بااثر لوگوں کیلئے احتساب سے بچنا آسان نہیں ہو گا‘ اس مثال کیلئے جہاں وزیراعظم خراج تحسین کے لائق ہیں وہاں عمران خان کی کوششوں کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہو گی‘ یہ عمران خان کی دہائیوں پر مشتمل کوششیں ہیں جن کے نتیجے میں آج وزیراعظم اپنا حساب دینے کیلئے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں‘ ہم عمران خان کے کارکنوں کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔عمران خان نے آج مطالبہ کیا میاں نواز شریف کو جے آئی ٹی کے سامنے جانے سے قبل اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ عمران خان کا مطالبہ ایک لحاظ سے درست دکھائی دیتا ہے‘کیوں؟ کیونکہ ماضی میں جب یوسف رضا گیلانی کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا تو میاں نواز شریف نے گیلانی صاحب کو اسی قسم کا مشورہ دیا تھا۔ میاں صاحب کو آج اپنے الفاظ کا پاس کرتے ہوئے ایک روشن مثال بن جانا چاہیے‘ کیا وزیراعظم یہ مثال بھی قائم کریں گےجبکہ آج جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ حسین نواز کی تصویر جے آئی ٹی کے اندر سے لیک ہوئی تھی اور ذمہ دار کواس کے ادارے میں واپس بھجوا دیا گیا ہے‘

وہ کون تھا‘ یہ نہیں بتایا گیا‘ کیوں؟ جے آئی ٹی نے الزام لگایا‘ ریاستی ادارے بروقت ریکارڈ فراہم نہیں کر رہے ہیں لہٰذا جے آئی ٹی ساٹھ دنوں میں کام مکمل نہیں کر سکے گی‘ ادارے تعاون کیوں نہیں کر رہے اور اگر تحقیقات ساٹھ دنوں میں مکمل نہ ہوئیں تو کیا ہو گا‘ کیا سپریم کورٹ تحقیقات مکمل کرانے کیلئے وزیراعظم کے اختیارات سلب کر نے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…