جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ایٹم بم چاغی 28مئی سے بہت پہلے ہی پہنچادیئے گئے تھے اور۔۔! معروف ایٹمی سائنسدان کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 29  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہےکہ 28مئی ،1998 ءمیں ایٹمی دھماکوں کے فیصلے نے پورا منظر نامہ تبدیل کردیا تھا اور پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے میں ایٹمی دھماکوں نے بنیادی کردار ادا کیاہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہےکہ اس وقت کے وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری نے مجھ سے رابطہ کیا اور وزیراعظم ہاؤس بلایا، وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران

مجھے جوہری ٹیسٹ کرنے کیلئے کہا گیا ۔ایک انٹرویودیتے ہوئے ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہےکہاس کے بعد 14 مئی کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا اور اس میں بھی ایٹمی تجربات کرنے کے فیصلے کی توثیق کردی گئی ۔انہوں نے دفاعی کمیٹی کے فیصلے کے بعد میں اپنے دیگرساتھیوں کے ہمراہ چاغی پہنچااورایٹمی دھماکے کرنے کےلئے 21مئی 1988کوکام شروع کردیاگیاجبکہ چاغی میں ایٹمی حوالے سے 1975سے کام ہورہاتھااس لئے صرف چندروزمیں ہی تیاری ہوسکتی تھی جوہم نے مکمل کرلی ۔انہوں نے بتایاکہ پاکستانی ماہرین اراضیات کے سائیٹ کوچیک کیااوردھماکے کرنے کی جگہ کابھی تعین کیاگیااوروہاں پرموجود پتھروں کی مضبوطی بھی دیکھی گئی کہ دھماکے کے بعد یہ پتھرہی دھماکوں کی شدت چانچنے میں ضروری تھے ۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہےکہ ہم نے 21مئی کوبم رکھنے کے بعد اس سے 20کلومیٹردورایک علاقہ چناجہاں سے ریموٹ کے ذ ریعے ایٹمی دھماکے کرناتھے ،ہم نے اپناکام 21مئی کوشروع کیااور27مئی کی رات تک تمام کام مکمل کرلیاگیااورطے پایاکہ 28مئی کوتین بجے سپہردھماکے کئے جائیں گے اورتین بجے کے بعد پاکستان باضابطہ طورپرایٹمی ملک بن چکاتھا۔جبکہ پاکستان عالمی اسلام کاپہلاایٹمی ملک اوردنیامیں ساتویں ایٹمی طاقت بن گیاتھاجوکہ ہمارے لئے قابل فخرہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…