منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

پہلے 6ماہ پھر دیڑھ سال میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی دعویدار نواز حکومت نے لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار پاکستانی عوام کو قرار دیدیا ۔۔ کیا کہہ دیا ؟ جان کر آگ بگولا ہو جائیں گے

datetime 27  مئی‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بجلی بچانے پر عوام کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی زور نہیں دیا اور اسی کوشش میں لگی رہی کہ نئے سے نئے پلانٹس کا افتتاح ہوتا رہے،عوام بجلی ضائع کرنے کے بجائے اس کااستعمال درست انداز میں کریںتو سسٹم سے تین سے چار ہزار میگا واٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ میں بجلی بچانے کا کہتا رہا مگر کسی نے لفٹ نہ کرائی،

ہم (حکومت)چاہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ پتا چلتا رہے کہ فلاں پلانٹ کا افتتاح ہوا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ بجلی کا ضیاع ہے۔ ہماری عوام بجلی ضائع کرنے کے بجائے اس کااستعمال درست انداز میں کرے تو سسٹم سے تین سے چار ہزار میگا واٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے مگر اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ رواں برس بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا تاہم جو لوگ بل نہیں دیتے ان کی لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی۔ملک میں ہر اس فیڈر کے علاقے میں لوڈشیڈنگ کی جائے گی جہاں پچاس فیصد سے زائد صارفین بل ادا نہیں کرتے۔ انہوںنے کہا کہ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں اب ہر روز 20 گھنٹے بجلی بند رکھی جاتی ہے کیونکہ ان علاقوں کے نوے فیصد سے زائد صارف بجلی کے بل ادا نہیں کرتے۔اس سوال پر کہ مختلف اداروں اور صوبائی حکومتوں سے وصولیوں کے لیے کیا کیا جا رہا ہے کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ صوبہ سندھ سے 27 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے ساتھ وصولیوں کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تاہم بلوچستان کی جانب سے اب بھی عدم ادائیگی برقرار ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو گردشی قرضوں کی مد میں 480 ارب روپے ادا کیے تاہم یہ قرضہ اب بھی 360 ارب روپے کو پہنچ گیا ہے۔گردشی قرضوں کی وجہ ٹیرف کا غیرحقیقی اور سبسڈی کا کم ہونا ہے۔خواجہ آصف نے کالا باغ ڈیم منصوبے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سیاست کا شکار ہے۔

کالا باغ پر قائل کرنے کے لیے جنرل ضیا ء اور جنرل مشرف کو کام کرنا چاہیے تھا کیونکہ آمر کو ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ یہاں آمر رائے عامہ کے لیے سیاستدانوں سے بھی زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں تاہم یہ افسوسناک ہے شاید کبھی ہمیں سمجھ آ ہی جائے کہ کالا باغ کا منصوبہ اہم تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…