جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے بڑے شہروں میں ڈرونز کے ذریعے بم حملے،لاہور کی ا یسی شخصیت کا شرمناک منصوبہ منظر عام پر آگیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں ڈرون سے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق منصوبہ بندی کرنے والے داعش کے رابطہ کار گروپ کو پکڑ لیا۔ ملزموں میں لاہور کی یونیورسٹی کا پروفیسر، اس کی بھانجی اور دیگر افراد شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان دہشت گردوں نے چھوٹے ڈرونز کے ذریعے ٹارگٹڈ بم حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ ان افراد کے داعش ارکان سے بھی رابطوں کا پتہ چلا ہے۔

گرفتار پروفیسر کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف لیاری کے علاقے شاہ بیگ لین میں دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت گینگ وار میں ملوث ملزم بابا گولڈن کے نام سے ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ بابا گولڈن، تاج محمد نامی شخص پر حملہ کرنے آیا تھا اور اس کی فائرنگ سے تاج محمد زخمی ہوا جب کہ تاج محمد کی جوابی فائرنگ سے بابا گولڈن مارا گیا۔ مقتول قتل اور اقدام قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث تھا۔ اس کے علاوہ ٹاور کے علاقے میںپیرکی شب فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ۔ دریں اثنا اتوار کو رات گئے فائرنگ سے زخمی 65 سالہ ماما امید علی ولد علی محمد بلوچ سول ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ماما امید علی پیپلزپارٹی کا سابق کونسلر، لیاری بزرگ کمیٹی کا رہنما اور گینگ وار کے اہم کردار غفار ذکری کا ماموں تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق امید علی کا بابا لاڈلا کے بھائی زار لاڈلا سے رقم کے لین دین پر تنازعہ چل رہا تھا اور مبینہ طور پر اسے بابا لاڈلا گروپ کے کمانڈر شوکت نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق امید علی کا بابا لاڈلا کے بھائی زار لاڈلا سے رقم کے لین دین پر تنازعہ چل رہا تھا اور مبینہ طور پر اسے بابا لاڈلا گروپ کے کمانڈر شوکت نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…