بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کو خطاب کا موقع نہ دیکر پاکستان کی تذلیل کی گئی،اب اسلامی فوجی اتحاد کا کیا ہوگا؟اہم سیاسی رہنما نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) جمعیت علماء پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کو اگر ریاض جیسے سہ فریقی سربراہی اجلاس میں اہمیت نہیں ملے گی تو پاکستان اسلامی ممالک میں اختلافات ختم کروانے کے لئے ثالثی کیسے کرسکے گا۔ وزیراعظم نواز شریف کو خطاب کا موقع نہ دیکر پاکستان کی تذلیل کی گئی ہے پاکستان کے ثالثی کے کردار پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

پیر کو اس خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر عسکری اتحاد کی قیادت چھوڑ دینی چاہئے ایک طرف پاکستان کو اس اتحاد کا سربراہ بنایا گیا دوسری طرف ہمیں موقف پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔ پاکستان کو اس اتحاد ہی کو چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ ریاض کے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کو خطاب کا موقع نہ دے کر پاکستان کی ثالثی کی پوزیشن پر حرف آسکتا ہے یہ پوزیشن یقیناً تاثر ہوئی ہے اس طرح اس کا ازالہ ممکن ہوسکے گا۔ ریاض سعودی عرب میں جانبدارانہ اجلاس ہوا سعودی عرب پاکستان کی ثالثی کی پوزیشن سے خائف ہوسکتا ہے اور اسے ڈر ہوگا کہ اجلاس میں پاکستان اتحاد کی بات کرسکتا ہے اس لئے ہمارا موقف ہے کہ یہ عسکری اتحاد مسلمانوں کو قریب لانے نہیں بلکہ مسلم امہ میں انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔نواز شریف کو خطاب کا موقع نہ دے کر پاکستان کی ثالثی کی پوزیشن پر حرف آسکتا ہے یہ پوزیشن یقیناً تاثر ہوئی ہے اس طرح اس کا ازالہ ممکن ہوسکے گا۔ ریاض سعودی عرب میں جانبدارانہ اجلاس ہوا سعودی عرب پاکستان کی ثالثی کی پوزیشن سے خائف ہوسکتا ہے اور اسے ڈر ہوگا کہ اجلاس میں پاکستان اتحاد کی بات کرسکتا ہے اس لئے ہمارا موقف ہے کہ یہ عسکری اتحاد مسلمانوں کو قریب لانے نہیں بلکہ مسلم امہ میں انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…