پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا،کلبھوشن یادیوکے معاملے میں پاکستان کی حکمت عملی کامیاب،بھارت کیلئے بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا

datetime 19  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(جاوید چوہدری )پاکستان نے جان بوجھ کر عالمی عدالت کا کارڈ کھیلا‘ اس کارڈ سے دو چیزیں ثابت ہو گئیں یادیو بھارتی باشندہ ہے اور جاسوس ہے‘ پاکستان اب پوری دنیا کے سامنے جب اسے دہشت گرد اور جاسوس ثابت کرے گا تو یہ ایشو انٹرنیشنل میڈیا میں آئے گا اور بھارت کا اصلی چہرہ سامنے آ جائے گا‘ ہم اگر اس رائے کو مان لیں تو یہ مقدمہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔

بنگال کے حکمران سراج الدولہ کے پاس سب کچھ تھا‘ فوج تھی‘ فرنچ جنرلز تھے‘ گولہ بارود تھا‘ رائفلیں تھیں‘ خزانہ تھا اور جذبہ تھا لیکن سراج الدولہاس کے باوجود پلاسی کی جنگ ہار گیا‘ مورخین نے جب اس کی شکست کی وجوہات تلاش کیں تو صرف ایک وجہ سامنے آئی‘ سراج الدولہ لوگوں کوبلاوجہ معاف کر دیتا تھا‘ یہ عادت عام انسانوں کیلئے اچھی ہوتی ہیلیکن یہ اگر حکمرانوں اور ریاستوں میں ہو تو وہ تباہ ہو جاتی ہیں‘ سراج الدولہ نے اس عادت کا نقصان اٹھایا اور ہم بھی اب اس عادت کے خسارے جمع رہے ہیں‘ ہم من حیث القوم غلطی کرنے والوں کو سزا نہیں دیتے‘ یہ ہماری قومی عادت ہے‘ آپ آج کی مثال لے لیجئے‘ ہماری ٹیم آج انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں کلبھوشن یادیوکے مقدمے کا پہلا مرحلہ ہار گئی‘ عالمی عدالت نے انڈیا کا موقف مان لیا اور پاکستان کو کل بھوشن یادیو کو پھانسی دینے سے روک دیا‘ یہ ہماری بہت بڑی سفارتی شکست ہے‘ قوم کا خیال ہیاس شکست کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہییلیکن میں سمجھتا ہوں یہ توقع غلط ہے‘ ہم معاف کر دینے والی قوم ہیں‘ ہم نے تو 1971ء4 کے سانحے کے ذمہ داروں کو معاف کر دیا تھا‘ یہ تو ایک مقدمے کی شکست ہے‘ آپ دیکھ لیجئے گا ہم نہ صرف اس ہار کو بھی چپ چاپ پی جائیں گے بلکہ ہم وکیلوں کو لاکھوں ڈالر فیس بھی ادا کریں گے‘ یہ ہمارا ٹریک ریکارڈ ہے اور ہم اس ریکارڈ کی توہین نہیں ہونے دیں گے۔ آئی سی جے کے فیصلے کے بعد دو آراء4 سامنے آ رہی ہیں‘ پہلی رائے ہمیں اتمام حجت کیلئے یادیو کو قونصل رسائی دے دینی چاہیے تھی تاکہ انڈیا اعتراض نہ کر سکتا‘ ہم نے اگراسے پھانسی کی سزا سنائی تھی تو ہمیں اسے فوراً پھانسی پر بھی چڑھا دینا چاہیے تھا تاکہ انڈیا کو عالمی عدالت جانے کا موقع نہ ملتا اور جب ہماے پاس یہ آپشن موجود تھا کہ ہم عالمی عدالت نہ جاتے تو پھر ہم کیوں گئے‘ یہ تینوں نقطے ہماری نالائقی کو ظاہر کرتے ہیں‘ دوسری رائے پاکستان نے جان بوجھ کر عالمی عدالت کا کارڈ کھیلا‘ اس کارڈ سے دو چیزیں ثابت ہو گئیں یادیو بھارتی باشندہ ہے اور جاسوس ہے‘ پاکستان اب پوری دنیا کے سامنے جب اسے دہشت گرد اور جاسوس ثابت کرے گا تو یہ ایشو انٹرنیشنل میڈیا میں آئے گا اور بھارت کا اصلی چہرہ سامنے آ جائے گا‘ ہم اگر اس رائے کو مان لیں تو یہ مقدمہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے‘ کون سی رائے درست ہے‘ کیس کا مستقبل کیا ہے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…