جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

کروڑوں روپے کی کرپشن ثابت ،پیپلزپارٹی کے انتہائی اہم رہنما بُری طرح پھنس گئے

datetime 7  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر تعمیراتی کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید ، ان کی درجہ بندی اور ٹیکنیکل انجینئرنگ یونیورسٹیوں کی رجسٹریشن کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن ثابت ہونے پر سندھ سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے انتہائی اہم اورسرگرم رہنما کے بھائی اورپاکستان انجینئرنگ کونسل کے سابق چیئرمین ،سید عبدالقادرشاہ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری عبدالروؤف شیخ

اورانجینئرنگ کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی کے ارکان سمیت 6نجی کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ، مقدمے میں 420،467,468،471،409اور109پی بی سی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں، دو کمپنیوں کے مالکان نے ایف آئی اے کی انکوائری میں شامل ہونے کی بجائے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا جس پر ان کے نام مقدمے میں شامل نہیں کئے گئے ۔ اتوار کو ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) میں درج ایف آئی آر کے مطابق لاہور کے رہائشی رزاق علی بھٹی نامی شخص کی شکایت پر ایف آئی اے لاہور نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سابق چیئرمین سید عبدالقادر شاہ سمیت دیگر ملزمان اور کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالکان کے خلاف انکوائری شروع کی اورانجینئرنگ کونسل سے متعلقہ ریکارڈ کی فراہمی کا کہا تو ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ کنسٹرکشن کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید اور ان کی درجہ بندی (سی 2سے سی 3 اور سی 3سے سی 6)کے عمل میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کی گئی جبکہ ٹیکنیکل انجیئرنگ یونیورسٹیوں کی رجسٹریشن کے دوران ان میں طلباء کی تعداد زیادہ ظاہر کر کے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے افسران اور عملہ بے ضابطگی کا مرتکب ہوا ہے ۔ دوران انکوائری نازک حسین کلہوڑو،انجیئر غلام رسول ، انجینئر توصیف احمد ، انجینئر زوہیب احمد اور تونیہ زبیر نے بتایا کہ وہ کبھی بھی

مقدمے میں نامزدکمپنیوں کے ملازم نہیں رہے تاہم ان کمپنیوں کی انتظامیہ نے جعلسازی کے ذریعے ان کی دستاویزات اور دستخط کر کے ہمیں اپنا ملازم ظاہر کیا اور انجینئرنگ کونسل سے اپنی کمپنیوں کی تجدید کے وقت کمپنی کے بورڈ میں ہمارا نام شامل کر کے اپنے لائسنسوں کی تجدید کروائی جبکہ ایک نجی کمپنی کے مالک نے دوران انکوائری بتایا کہ جب بھی وہ اپنے لائسنس کی تجدید کرواتے اس وقت انہیں پاکستان انجیئرنگ کونسل کے باہر مختلف انجینئر مل جاتے جن کو موقع پر فیس دیکر ان سے بیان حلفی لے لیا جاتا اور اس طرح کمپنی کے لائسنس کی تجدید کروا لی جاتی ۔

پاکستان انجیئرنگ کونسل کے ہیڈ آفس میں خاور حسین اسسٹنٹ رجسٹرار اور محمد انصار ڈپٹی رجسٹرار بھی جعلسازی کے ذریعے کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید کرتے رہے ہیں ۔ایف آئی آر کے مطابق دوران انکوائری کرپشن الزامات اور جعلسازی ثابت ہونے پر پاکستان انجیئرنگ کونسل کے سابق چیئرمین سید عبدالقادر شاہ ، سابقہ رجسٹرار عبدالروؤف شیخ اور متعلقہ انرولمنٹ کمیٹی کے ارکان سمیت نجی کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک محمد ظفر ، سید اویس قادر شاہ ، سراج احمد ،عبدالحمید ، میاں داؤد، ناصر اور گر مگھداس کے خلاف ایس آئی یو اسلام آباد میں 25اپریل کومقدمہ نمبر8/217 درج کیا گیاہے اور اس مقدمے کی تفتیش ایف آئی اے لاہور کرے گی ۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…